Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پانی روکنے کی کوشش کی گئی توقومی قیادت مؤثر جواب دینے کے لیے پرعزم ہے، عطاتارڑ

پانی کوبطور ہتھیاراستعمال کرنا علاقائی وعالمی واستحکام کونقصان پہنچانے کے مترادف ہے، وزیراطلاعات

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ نے کہا کہ بارہاواضح کرچکے ہیں کہ پاکستان کے عوام کا دریائے سندھ کے پانی پرپورا حق ہے پانی روکنے کی کوشش کی گئی توقومی قیادت مؤثرجواب دینے کےلیے پرعزم ہے۔

اسلام آباد میں ’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی سید مہر علی شاہ، سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر، عالمی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی اور مختلف ممالک کے مندوبین و آبی ماہرین شریک تھے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ

 سیمینار سے خطاب میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ سیمینارمیں شریک تمام مندوبین کوخوش آمدید کہتا ہوں سندھ طاس معاہدہ امن، علاقائی استحکام کاایک اہم ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایک معاہدے پر نہیں بلکہ 24 کروڑ عوام کی زندگی کی شہ رگ پربات کررہےہیں وادی سندھ کی تہذیب ہی ہماری اصل شناخت، ہم اس عظیم تہذیب کے وارث ہیں۔

عطاتارڑ نے کہا کہ پاکستان کےلیے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ بقاکامعاملہ ہے دریائے سندھ دنیاکی قدیم ترین تہذیبوں میں سےایک کی آبیاری کرتا آیا ہے پاکستان کی تاریخ دراصل دریائےسندھ کی تاریخ ہے۔

وزیراطلاعات کے مطابق زراعت قومی معیشت کابنیادی ستون اوردریائےسندھ اس کی شہ رگ ہے 6 دہائیاں قبل دوممالک نےایک غیرمعمولی فیصلہ کیا فیصلےکےنتیجےمیں سب سےپائیدارآبی معاہدوں میں سےایک وجودمیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نےہمیشہ تعمیری مذاکرات، معاہدےپرمخلصانہ عملدرآمدکےعزم کامظاہرہ کیا 1960کاسندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک منفرد مقام رکھتاہے۔

عطاتارڑ کا کہنا تھا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کویکطرفہ طورپرمعطل کیا پاکستان ہرصورت سندھ طاس معاہدےکے تقدس کا تحفظ کرےگا ہمیں اس عزم کااظہارکرناہےکہ سندھ طاس معاہدہ برقراررہے گا۔

وفاقی وزیراطلاعات نے مزید کہا کہ پانی کوبطورہتھیاراستعمال کرناعلاقائی وعالمی واستحکام کونقصان پہنچانےکےمترادف ہے ہمیں پانی کوتنازع کی بجائےتعاون کاذریعہ بناناچاہیے باہمی رضامندی سےوجودمیں آنےوالےاس معاہدےمیں تبدیلی اتفاق رائےسےہی ممکن ہے سندھ طاس معاہدےکی یکطرفہ معطلی نےبھارت کوعالمی فورمزپرسبکی سےدوچارکیا۔

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی عدم دستیابی سے کسان، زراعت  چھوڑنے پر مجبور ہوئے، پانی کی عدم دستیابی سے صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ بنگلہ دیشی لوگ بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ پانی کی عدم دستیابی یا زیادہ بہاؤ نہیں، بلکہ پانی کے کنٹرول کا ہے، مرالہ ہیڈورکس پر ایک دن پانی بہت کم تو دوسرے دن سیلابی صورت میں بھارت سے آتا ہے، یہ ماحولیاتی مسلہ نہیں بلکہ انصاف کا ہے کیونکہ پانی کے بہاؤ پر کنٹرول اصل مسلہ ہے، بھارت نہ صرف ہمارے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرتا ہے بلکہ دنیا کا تیسرا آلودگی پھیلانے والا ملک بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی وجہ سے ہمارے 6 ہزار لوگ جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، چھ ہزار لوگ جنگوں میں بھی نہیں مرتے۔

مصدق ملک کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کر کے اسے بطور ہتھیار استعمال کرنا ہے، سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین معاہدوں میں سے ایک ہے، یہ معاہدہ دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان تین جنگوں میں بھی قائم رہا، اگر یہ مضبوط ترین معاہدہ قائم نہ رہا تو پھر دنیا کا کوئی بھی معاہدہ قائم نہیں رہ سکتا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کسی ایک ملک کو علاقائی اور عالمی امن کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ہم عالمی ثالثی عدالت سے بھی رجوع کر چکے ہیں، عالمی ثالثی عدالت بہت واضح فیصلے دے چکی، عالمی ثالثی عدالت قرار دے چکی کہ کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل یا ختم نہیں کر سکتا، بھارت پانی کے بہاؤ کو یکطرفہ نہیں موڑ سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی ثالثی عدالت قرار دے چکی کہ بھارت پاکستان کے حصے کے پانیوں پر پانی کے ذخائر نہیں بنا سکتا، بھارت عالمی ثالثی عدالت کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے بھی انکاری ہے، اگر یہ معاہدہ کامیاب نہیں ہوا تو پھر دنیا کا ہر نشیبی ملک کے حصے کا پانی روکے گا، یہ صرف پاکستان کا مسلہ نہیں بلکہ دنیا بھر کا مسئلہ ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے مزید کہا کہ پاکستان نے تباہ کن سیلابوں کا سامنا کیا ہے، یہ ماحولیاتی مسئلہ نہیں، انصاف کا معاملہ ہے، پاکستان میں بڑے طبقے کا ذریعۃ معاش زراعت ہے جو پانی سے منسلک ہے، پاکستان واضح کر چکا، وہ اپنے حصے کے پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی سید مہر علی شاہ

کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی سید مہر علی شاہ نے سیمینار میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ صرف ایک دستاویز نہیں بلکہ چوبیس کروڑ پاکستانیوں کی زندگی کا معاملہ ہے، سندھ طاس معاہدے سے ہماری زراعت، خوراک، معیشت جڑی ہوئی ہے، یہ معاہدہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور امن کیلئے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاہدے میں مسائل کے حل کا جامع طریقہ کار موجود ہے، معاہدے میں مجموعی طور پر بارہ شقیں ہیں، معاہدے کے تحت فریقین کو دریاؤں کے بہاؤ سے متعلق معلومات فراہم کرنا لازمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت اگر مسائل دونوں فریقین سے حل نہیں ہوتے تو پھر معاملہ ثالث کے پاس جائے گا، معاہدے کی شق نو کے تحت بین الاقوامی ثالث عدالت کے پاس معاملہ لے جایا جا سکتا ہے، پاکستان دو بار بھارت کی جانب سے متنازعہ بجلی گھر بنانے کا معاملے ثالثی عدالت لے جا چکا ہے۔

کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی کا کہنا تھا کہ عالمی ثالثی عدالت دو بار معاہدے کی وضاحت کر چکی ہے، ثالثی عدالت فیصلے میں واضح کر چکی ہے کہ بھارت معاہدے کو یکطرفہ معطل یا ختم نہیں کر سکتا، ثالثی عدالت نے بھارت کو کہا ہے کہ مغربی دریاؤں کے بہاؤ میں کوئی خلل نہ ڈالے۔

سید مہر علی شاہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل رکھنا مکمل غیر قانونی اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے، بھارت اگست 2023 سے معاہدے پر عمل نہیں کر رہا، دریاؤں کے پانی کے بہاؤ سے متعلق درست اور بروقت معلومات دینا لازمی ہے، پاکستان دریاؤں کے نشیبی طرف ہے، یہ ڈیٹا پاکستان کیلئے بہت ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز بھی بھارت کو اس بارے میں خط لکھ کر ڈیٹا فراہمی کا کہا چکے ہیں، بھارت کی جانب سے دریاؤں کے پانی کے بہاؤ کے بارے میں ڈیٹا فراہم نہ کرنے سے کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے، بھارت چناب کے پانی کا رخ موڑ کر 1.9 ملین پانی کا بہاؤ متاثر کرنے جا رہا ہے، پاکستان اپنے حصے کے پانی کو موڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔

انہوں نے کہا بھارت کی جانب سے چناب بیاس لنک کی تعمیر مکمل غیر قانونی ہے، سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت چناب کا پانی بیاس میں نہیں ڈال سکتا، معاہدے کے تحت بھارت اس لنک کی پاکستان کو معائنے کی اجازت دینے کا پابند ہے۔

کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا معاملہ اقوام متحدہ میں بھی لے جا چکا ہے، پانی لوگوں کی زندگیوں سے جڑا ہے اسے بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان

بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان کا کہنا تھا کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، بھارتی قیادت اعلان کر چکی ہے کہ پاکستان کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ اپریل 2025 سے بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل رکھا ہوا ہے، 2025 سے بھارت سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، بھارت مشرقی دریاؤں میں بغیر اطلاع دیئے پانی کا بڑا بہاؤ چھوڑ دیتا ہے، بھارتی اقدام سے 73 لاکھ پاکستانی متاثر ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت پانی کو روک کر سیلابی صورت میں چھوڑ کر پاکستانی عوام کو مسلسل نقصان پہنچا رہا ہے، عالمی سطح پر پانی پر شہری کا بنیادی حق ہے، عالمی ثالثی عدالت کے مطابق سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل نہیں رکھا جا سکتا۔

خرم دستگیر خان نے کہا کہ جنیوا معاہدے کے تحت بھی پانی کو کسی اور مسئلے سے جوڑ کر نہیں روکا جا سکتا، پانی روک کر بڑی آبادی کو غذائی قلت سے دوچار کرنا عالمی جرم ہے، بھارت جان بوجھ کر چوبیس کروڑ پاکستانیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے، بھارت سندھ کے نشیبی علاقے کو پیاسا رکھ کر کروڑوں افراد کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے میں شامل دریاوں کا تعلق ہماری زندگیوں سے ہے، عالمی برادری کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کو روکنا ہوگا، دریاؤں کے پانی کا تعلق صرف انسانی زندگیوں سے ہی نہیں بلکہ لاکھوں برس قدیم تہذیب سے بھی ہے۔

سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان پر صورت اپنے حصے کے پانی اور اپنی تہذیب کی حفاظت کرے گا، ہماری بہادر مسلح افواج نے چار جنگوں میں مادر وطن کا کامیابی سے دفاع کیا، ہم ہر علاقائی اور عالمی فورم پر پانی کے بطور ہتھیار کے استعمال کو روکنے کا مسئلہ اٹھائیں گے۔

بین الاقوامی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی نے کہا کہ دنیا بھر میں پانی، ہوا، خوراک کو بنیادی انسانی ضروریات قرار دیا جا چکا ہے، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو ’’غیر موجودہ ‘‘ حالت میں رکھنا مکمل غیر قانونی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو دوسرے امور سے منسلک کیا جا رہا ہے، پہلگام واقعے کے بعد بھارت کو عالمی قوانین کے تحت پاکستان کو معلومات اور تفتیش میں تعاون کے لئے تحریری لکھنا ضروری تھا، بھارت نے قانونی راستہ اپنانے کی بجائے کشیدگی اور جنگ کا راستہ چنا۔

احمر بلال صوفی نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر ایک تسلیم شدہ عالمی تنازعہ ہے، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھا چکے ہیں، بھارتی اقدام اقوام متحدہ کے منشور کی بھی خلاف ورزی ہے۔

ماہر بین الاقوامی قوانین کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہر مسئلے کا قانونی پہلو بھی ہے، پاکستان بھارت کے قانونی ماہرین کے درمیان مکالمے کی ضرورت ہے، پاکستان پر عالمی قانون پر مکمل کاربند ہے، بھارت کا سندھ طا س معاہدے کو غیر موجودہ حال

متعلقہ خبریں