لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک گھر میں قائم ٹیوشن سینٹر اس وقت خوفناک سانحے میں بدل گیا جب کمرے کی چھت اچانک زمین بوس ہو گئی۔ حادثے کے بعد علاقے میں چیخ و پکار مچ گئی اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق چھت گرنے کے وقت 30 سے زائد بچے کمرے میں موجود تھے جو ملبے تلے دب گئے۔ ریسکیو اہلکاروں نے فوری امدادی کارروائیاں شروع کرتے ہوئے درجنوں بچوں کو نکال کر اسپتال منتقل کیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق اب تک 18 بچوں کو ملبے سے نکال کر طبی امداد کے لیے روانہ کیا گیا ہے، تاہم افسوسناک طور پر 5 بچوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعد ازاں اسپتال ذرائع نے اموات کی تعداد 14 تک پہنچنے کی تصدیق بھی کی ہے جبکہ مزید زخمی بچوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ایم ایس ٹی ایچ کیو کاہنہ کے مطابق جاں بحق بچوں کی عمریں 5 سے 15 سال کے درمیان ہیں۔
ایم ایس ٹی ایچ کیو کاہنہ ڈاکٹر احسن نے بول نیوز سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ 20 زخمی بچوں کو اسپتال لایا گیا تھا، جن میں سے جاں بحق ہونے والے 14 بچوں کی عمریں 5 سے 15 سال کے درمیان ہیں۔ اموات سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے ہوئیں، انہوں نے مزید کہا کہ 6 بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
گنجان آباد علاقے اور تنگ گلیوں کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ بچوں کے اہل خانہ اور علاقہ مکین بڑی تعداد میں جائے وقوعہ اور اسپتالوں میں جمع ہیں، جہاں کہرام کا سماں ہے۔



















