مون سون سیزن سے قبل شہر کی مخدوش اور انتہائی خطرناک عمارتوں کو خالی کرانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی زیر صدارت اہم اجلاس میں شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کی جانب سے بریفنگ دی گئی کہ شہر میں مجموعی طور پر 584 مخدوش عمارتیں موجود ہیں جن میں سے 59 عمارتیں انتہائی مخدوش قرار دی گئی ہیں۔ ان انتہائی خطرناک عمارتوں میں 29 تاریخی عمارتیں بھی شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کراچی کی 90 فیصد سے زائد مخدوش عمارتیں ضلع جنوبی میں واقع ہیں جہاں 442 عمارتیں خطرناک حالت میں موجود ہیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ انتہائی مخدوش عمارتوں کو فوری طور پر خالی کرانے کے نوٹس جاری کیے جائیں گے جبکہ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنرز کو مکمل فہرست فراہم کی جائے گی۔
مزید کہا گیا کہ شہریوں کی آگاہی کے لیے مخدوش عمارتوں کی فہرست کو سرکاری طور پر مشتہر کیا جائے گا۔
انتظامیہ نے واضح کیا کہ نوٹس پر عمل نہ ہونے کی صورت میں گیس، بجلی اور پانی کے کنکشن منقطع کیے جائیں گے جبکہ ضرورت پڑنے پر عمارتوں کو ان کی نوعیت کے مطابق مسمار بھی کیا جا سکتا ہے۔
متاثرہ مکینوں کی عارضی رہائش اور بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
کمشنر کراچی نے کہا کہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ اقدامات ترجیحی بنیادوں پر کیے جائیں گے۔



















