اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ایک قریبی رشتہ دار پر غیر ملکی خواتین کو پاکستان بلاکر مبینہ زیادتی، تشدد اور بھتہ خوری کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
فیصل واوڈا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ مبینہ واقعے کے بعد متعلقہ غیر ملکی سفارت خانے کی مداخلت پر ملزم کو گرفتار کیا گیا جب کہ حکومت اس معاملے کو دبانے کی کوشش کررہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کیس کو مبینہ طور پر زیادتی کے بجائے صرف بھتہ خوری تک محدود کرنے اور متاثرہ غیر ملکی خواتین کو جلد واپس بھیجنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔
سینیٹر فیصل واوڈا کہتے ہیں کہ اس مقدمے میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان اب تک منظرعام پر آجانا چاہیے تھا تاہم ایسا نہیں ہوا۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ بعض مقدمات میں میڈیکل رپورٹس کو بھی اپنی مرضی کے مطابق حاصل کیا جاتا ہے۔
انہوں نے اپنی پوسٹ میں ملک کے سیاسی نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چند بااثر افراد نے ملک پر ’’ایلیٹ کیپچر‘‘ کے ذریعے قبضہ جما رکھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت، اپوزیشن اور اتحادی جماعتوں میں سے کسی بھی سیاسی رہنما کی جانب سے اس معاملے پر مذمتی بیان سامنے نہیں آیا جس سے ان کے بقول تمام سیاسی قوتوں کے مفادات ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں۔
فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ وہ پہلے بھی متعدد بین الاقوامی اسکینڈلز سامنے آنے کی پیش گوئی کرچکے تھے اور وطن واپسی پر بھی اپنے مؤقف پر قائم رہیں گے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر پاکستان کے تشخص کا خیال رکھا جائے تو اسحاق ڈار کو فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
واضح رہے کہ فیصل واوڈا کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار یا حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا جب کہ ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔



















