Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

قیدیوں کا پرائیویٹ علاج کیس: سپریم و ہائیکورٹس سے تمام متعلقہ درخواستوں کا ریکارڈ طلب

آئینی تشریح کا اختیار اب وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے، اٹارنی جنرل

تین قیدیوں کی بانی پی ٹی آئی کی طرز پر پرائیویٹ اسپتال میں سہولیات دینے کے معاملہ پر سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت نے حکم دیا کہ کسی بھی ہائیکورٹ میں اس نوعیت کا کوئی بھی کیس زیر التوا ہو اسکا ریکارڈ بھجوایا جائے۔

وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ سے بانی پی ٹی آئی کے متعلق توہین عدالت، ہسپتال منتقلی اور نظرثانی درخواست کا ریکارڈ طلب کر لیا۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، دورانِ سماعت اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 175 ای کی زیلی شق 5 کے تحت وفاقی آئینی عدالت آئینی تشریح کے سوال پر ملک کی کسی بھی عدالت کا ریکارڈ منگوا سکتی ہے۔

جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ آئین و قانون کا اطلاق کا امیر اور غریب پر برابر ہونا چاہئے، جسٹس علی باقر نجفی نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ کیا آپ نے سپریم کورٹ میں اعتراض اٹھایا تھا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ نے ہمیں نوٹس جاری کیے بغیر حکم دیا۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے سپریم کورٹ میں اعتراض اٹھایا تھا، جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کو درخواست کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ طے نہیں کرنا چاہئے تھا، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بالکل ایسے ہی ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئینی تشریح کا اختیار اب وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سپریم کورٹ میں زیر التوا کیس تو فوجداری نوعیت کا ہے، ہمارے پاس کیس اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف آیا ہے، سپریم کورٹ کا حکم تو ابھی عبوری ہے۔

جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ اصل سوال تو اختیار سماعت کا ہے، سوال یہ ہے کہ آئینی تشریح اور بنیادی حقوق کا کیس اب کون سن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں