جنیوا میں اقوام متحدہ کے فورم پر پاکستان نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کا اطلاق ریاستوں کی پسند یا طاقت کے مطابق نہیں ہوسکتا۔
پاکستانی مشن کے فرسٹ سیکریٹری عدیل ممتاز کھوکھر نے بھارت کے بیان پر جواب کا حق استعمال کرتے ہوئے مودی حکومت کے مؤقف پر شدید تنقید کی اور کہا کہ بین الاقوامی قانون اپنی مرضی سے منتخب کرنے کے لیے اختیارات کا مینیو نہیں ہے۔
عدیل ممتاز کھوکھر نے بھارت کے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کا اپنا حاضر سروس نیول افسر کلبھوشن جادھو پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار ہوا تھا، جبکہ بھارتی ایجنٹ بیرونِ ملک بین الاقوامی جرائم میں بھی ملوث پائے گئے ہیں۔
پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ تمام ریاستیں اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پابند ہیں اور کسی ملک کو اپنی مرضی کے مطابق بین الاقوامی قانون کے کسی حصے کو قبول یا مسترد کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے عدیل ممتاز کھوکھر نے کہا کہ مستقل ثالثی عدالت واضح کرچکی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذالعمل ہے۔
ان کے مطابق ثالثی عدالت کے فیصلے کے تحت بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند ہے، اس لیے نئی دہلی یکطرفہ طور پر معاہدے سے دستبردار ہونے یا اس کی ذمہ داریوں سے انکار کا راستہ اختیار نہیں کرسکتا۔
پاکستانی مندوب نے بھارت کے طاقت کے استعمال کے تصور کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت خود کو خطے کی طاقتور ریاست سمجھ سکتا ہے، لیکن طاقت کے بل پر سندھ طاس معاہدے سے دستبرداری یا اس کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔
عدیل ممتاز کھوکھر نے زور دیا کہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کسی ریاست کی طاقت، مرضی یا سیاسی ترجیحات کا معاملہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کے تحت بنیادی ذمہ داری ہے۔
پاکستان کا مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سندھ طاس معاہدے پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ اسلام آباد مسلسل مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ معاہدے کی حیثیت یکطرفہ طور پر تبدیل نہیں کی جاسکتی، جبکہ نئی دہلی معاہدے سے متعلق اپنے اقدامات کو اپنے قومی مفادات اور سیکیورٹی خدشات سے جوڑتا ہے۔
جنیوا میں پاکستانی مندوب کا جواب بنیادی طور پر اسی بھارتی مؤقف کو چیلنج کرتا ہے کہ ریاستیں اپنی سیاسی یا سیکیورٹی ترجیحات کے تحت بین الاقوامی معاہدوں کی ذمہ داریوں کو محدود کرسکتی ہیں۔ پاکستان نے واضح کردیا کہ طاقت کا توازن نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کسی معاہدے کی پابندی کا بنیادی معیار ہے۔

















