اقوام متحدہ جنیوا میں جاری انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے دوران مسئلہ کشمیر اور اقلیتوں کے حقوق کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے سفارت کاروں کے درمیان سخت سفارتی جملوں کا تبادلہ ہوا۔
30 ستمبر کو ویانا ڈیکلریشن سے متعلق انٹریکٹیو ڈائیلاگ کے دوران پاکستان کی جانب سے فرسٹ سیکرٹری عدیل ممتاز کھوکھر نے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا اور عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کی۔
پاکستانی بیان کے بعد بھارتی سفارت کار نے رائٹ آف ریپلائی استعمال کرتے ہوئے پاکستانی مؤقف کو مسترد کیا۔ بھارتی نمائندے نے کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان میں اقلیتوں کی صورتِ حال کے حوالے سے جوابی الزامات عائد کیے۔
بھارتی بیان کے جواب میں پاکستانی سفارت کار عدیل ممتاز کھوکھر نے بھی رائٹ آف ریپلائی استعمال کیا۔ انہوں نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بھارت میں اقلیتوں کی صورتِ حال، مذہبی آزادی اور حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی سے منسلک ہندوتوا سیاست کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات کونسل کے سامنے پیش کیے۔
پاکستانی نمائندے نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ بھارت کو پاکستان پر الزامات عائد کرنے کے بجائے اپنے ملک میں انسانی حقوق اور اقلیتوں سے متعلق اٹھائے جانے والے سوالات کا جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے تنازع کو بھی دوبارہ اجاگر کرتے ہوئے پاکستان کا مؤقف دہرایا۔
یوں انسانی حقوق کونسل کا یہ سیشن پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک مرتبہ پھر سفارتی لفظی کشمکش کا مرکز بن گیا، جہاں دونوں ممالک نے رائٹ آف ریپلائی کے ذریعے کشمیر اور انسانی حقوق سے متعلق ایک دوسرے کے مؤقف اور الزامات کا جواب دیا۔
