Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مذاکرات کا ڈرافٹ تیار تھا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سبوتاژ کیے، محسن نقوی

اگر فیصلے سہیل آفریدی نے کرنے تھے تو انہیں خود آنا چاہیے تھا، وزیر داخلہ

لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں اچھا معاہدہ تیار ہوگیا تھا اور تمام لوگ 99 فیصد اس پر متفق تھے تاہم بدقسمتی سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مذاکرات سبوتاژ کردیے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ اپوزیشن کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کیے اور اس کا کریڈٹ اپوزیشن کو دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے وزیراعظم اور صدر کو آگاہ کیا تھا۔ وزیراعظم اور صدر نے ہدایت کی تھی کہ مذاکرات کامیاب بنانے کی پوری کوشش کرنی ہے۔

محسن نقوی کے مطابق حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ نیک نیتی سے 12 گھنٹے مذاکرات کیے، اس دوران چار مرتبہ معاہدے کا ڈرافٹ تیار کیا گیا اور اس میں تبدیلیاں بھی کی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ معاہدے کا ڈرافٹ تیار ہونے کے بعد اپوزیشن اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئی۔ پیپلز پارٹی نے ایک مرتبہ نہیں بلکہ چار مرتبہ ڈرافٹ کو لاک کروایا، اس کی خواہش تھی کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ ملتوی کردے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی کوئی درخواست نہیں کی تھی۔ پی ٹی آئی نے خود کہا تھا کہ معاملات طے ہونے پر لانگ مارچ ملتوی کردیں گے۔

  • ان کا کہنا تھا کہ اگر معلوم ہوتا کہ خیبرپختونخوا حکومت معاہدے سے پیچھے ہٹ جائے گی تو مذاکرات ہی نہ کرتے۔ اگر فیصلے سہیل آفریدی نے کرنے تھے تو انہیں خود مذاکرات میں آنا چاہیے تھا۔

محسن نقوی کہتے ہیں کہ ہمارا بنیادی مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ دہشت گردی تھا۔ حکومت چاہتی تھی کہ دہشت گردی کے معاملے پر صوبائی حکومت ساتھ کھڑی ہو۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی ہورہی ہے اور دوسری جانب فوج کے خلاف بیانات دیے جارہے ہیں۔ حکومت نے صوبے میں دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں بنانے سے روکنے پر اتفاق کی بات کی تھی۔

وزیر داخلہ کے مطابق دہشت گردی کے معاملے پر پولیس ایکٹ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا معاملہ بھی زیر بحث تھا۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپریشن میں کون سی بندوق استعمال ہوگی، اس کا فیصلہ بھی آپ کریں۔

انہوں نے کہا کہ جب پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم دوسرے کمرے میں بات کرکے واپس آتی تھی تو ساری باتیں تبدیل ہوجاتی تھیں۔ مذاکرات میں آنے والی ٹیم پر کوئی الزام نہیں لگاؤں گا۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی دہشت گردی کے معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے تھے۔ صوبے میں جنگ کی صورتحال ہے، سیکیورٹی کے معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو صوبے کی جنگ سے الگ ہونا ہے تو وزارت اعلیٰ چھوڑ دے۔ مقامی سطح پر پی ٹی آئی دہشت گردوں کی حمایت کرتی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے خبردار کیا کہ کسی صورت 9 مئی کو دوبارہ نہیں ہونے دیں گے اور عدالتی حکم کی خلاف ورزی بھی برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے دوران اگر ایک بھی جان گئی تو اس کے ذمہ دار سہیل آفریدی ہوں گے۔ اگر مارچ میں کوئی نقصان ہوا تو یہ توہین عدالت کے مرتکب ہوں گے۔

محسن نقوی نے کہا کہ جتنے احتجاج کرنے ہیں کریں لیکن اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ خیبرپختونخوا کے اندر یا باہر کہیں بھی دھاوا بولا گیا تو ان کا پیچھا کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی قسطوں کا اب خاتمہ ہونا چاہیے۔ بلیک میلنگ چھوٹا لفظ ہے، یہ اپنے صوبے کے ساتھ زیادتی کررہے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت کو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس دیکھ لینے چاہییں کہ وہ کس موڈ میں ہیں۔ جن جتھوں کے ساتھ تیاری کی جارہی ہے، انہیں اسی طرح قابو کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اسد قیصر معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے راضی ہوگئے تھے۔ مذاکرات ناکام ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اپوزیشن کو دہشت گردوں کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔

محسن نقوی نے کہا کہ حکومتی ٹیم نے نیک نیتی سے کوشش کی اور کسی معاملے میں انکار نہیں کیا۔ وزیراعظم اور صدر جو فیصلہ کریں گے، اس پر عمل درآمد ہوگا۔

متعلقہ خبریں