Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

قومی اسمبلی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی منظوری دے دی، اپوزیشن کی مخالفت

حکومت نے ایمرجنسی کے نفاذ کو قومی سلامتی اور صوبے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ضروری قرار دیا

قومی اسمبلی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی جس کے بعد صدر مملکت کی جانب سے صوبے میں ایمرجنسی کے اعلان کی توثیق کردی گئی۔ اپوزیشن نے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے قرارداد کی منظوری پر اعتراض اٹھایا۔

اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کا معاملہ زیر بحث آیا۔ اجلاس کے آغاز پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے وقفہ سوالات ملتوی کرنے کی تحریک پیش کی، جس کی اپوزیشن نے مخالفت کی، تاہم ایوان نے تحریک کثرت رائے سے منظور کرلی۔

بعد ازاں وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے صدر مملکت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے اعلان کی توثیق کے لیے قرارداد پیش کی۔ اس معاملے پر بحث کے دوران اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی ایوان میں موجود تھے۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس اقدام کا فیصلہ طویل غور و خوض کے بعد کیا۔ ان کے مطابق صوبے میں اندرونی خلفشار، سرحد پار سے دراندازی اور صوبائی حکومت کے اقدامات قومی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کر رہے تھے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین کے تحت صدر مملکت کی جانب سے ایمرجنسی کے اعلان کو دس روز کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظوری کے لیے پیش کرنا ضروری ہے۔ اسی آئینی تقاضے کے تحت معاملہ قومی اسمبلی میں لایا گیا ہے۔

وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کے اقدام کو بعض حلقوں کی جانب سے 12 اکتوبر 1999 کے واقعات سے تشبیہ دی گئی، تاہم حکومت نے کابینہ میں اس معاملے پر تفصیلی غور کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے سکیورٹی صورت حال کو تشویش ناک بنا دیا ہے۔

ان کے مطابق پاک فوج اور پولیس نے قربانیاں دے کر دہشت گردی کے خلاف کامیابیاں حاصل کی تھیں، تاہم بعد ازاں حالات دوبارہ خراب ہوئے اور ایک سال کے دوران دہشت گردی کے 3 ہزار 700 سے زائد واقعات پیش آئے۔

حکومت نے ایمرجنسی کے نفاذ کو قومی سلامتی اور صوبے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ضروری قرار دیا، جب کہ اپوزیشن نے اس اقدام کی مخالفت کی۔ قومی اسمبلی سے قرارداد کی منظوری کے بعد خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے اعلان کی توثیق کا آئینی مرحلہ آگے بڑھ گیا ہے۔

متعلقہ خبریں