نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت انسداد دہشت گردی کے لیے 800 ارب روپے دیے گئے، اب اس رقم کا حساب کون دے گا؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔
سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں مسلسل دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں، لیکن صوبائی حکومت انسداد دہشت گردی کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔ بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خلاف بھرپور جدوجہد کر رہی ہے۔
نائب وزیراعظم نے سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتشار کی سیاست کے لیے حکومتی وسائل استعمال کرتے رہے۔ ان کی تقریریں سن لیں، وہ صرف ملک میں آگ لگانا چاہتے تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا دوبارہ 9 مئی جیسے واقعات دہرانا چاہتے تھے؟ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ملک اپنی عسکری تنصیبات پر حملے برداشت نہیں کرتا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنا چاہتی ہے، تاہم ملک فسادی اور انتشار پھیلانے والے لانگ مارچ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ وہ بے بنیاد اور گمراہ کن پروپیگنڈے سے باز رہے۔ ان کے مطابق صوبے کے معاملات چلانے کے لیے اہل اور قابل افراد تعینات کیے گئے ہیں۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ ملکی معیشت کی بہتری کے لیے حکومت کی جدوجہد کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں پالیسی ریٹ اور مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ اور ملک کا استحکام مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔
















