خیبرپختونخوا میں غیر فعال وزرا، مشیروں اور معاونینِ خصوصی کے زیر استعمال سرکاری گاڑیاں تاحال واپس نہیں کی جاسکیں جس کے باعث گاڑیوں کی دیکھ بھال اور دیگر اخراجات کا بوجھ بدستور سرکاری محکموں پر پڑ رہا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق عہدوں سے فارغ ہونے والے کسی بھی متعلقہ فرد نے اب تک ایک بھی سرکاری گاڑی واپس نہیں کی، جبکہ بعض سابق وزرا اور معاونینِ خصوصی کے زیر استعمال تین سے چار گاڑیاں تک موجود ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری عہدوں میں تبدیلی کے باوجود گاڑیوں کے استعمال اور ان پر اٹھنے والے اخراجات کا سلسلہ جاری ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔
عوامی وسائل کے استعمال میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ حکام سرکاری گاڑیوں کا مکمل ریکارڈ مرتب کریں، ان کی واپسی سے متعلق قواعد و ضوابط کا جائزہ لیں اور غیر مجاز استعمال کی صورت میں ضابطے کے مطابق کارروائی کریں۔
