Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بی آئی ایس پی کا پیسہ کس کس نے کھایا؟ قومی اسمبلی میں تہلکہ خیز انکشافات

دستاویزات کے مطابق 24 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کے مقابلے میں صرف 71 کروڑ روپے واپس لیے جاسکے

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جہاں ایک لاکھ 40 ہزار 488 سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ نے مبینہ طور پر 24 ارب روپے وصول کیے۔

تاہم چھ سال گزرنے کے باوجود صرف 71 کروڑ روپے کی ریکوری ہوسکی، جبکہ کم پنشن لینے والے 32 ہزار 971 غیر مستحق سرکاری ملازمین سے رقم کی واپسی بھی معاف کردی گئی۔

وزارت تخفیف غربت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق بی آئی ایس پی کے مستحقین کے لیے مختص رقم سرکاری ملازمین اور پنشنرز نے بھی وصول کی، جبکہ اس مالیاتی بے ضابطگی میں ملازمین کے شریک حیات بھی شامل تھے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ 2019 میں مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے باوجود چھ سال تک ادائیگیاں جاری رہیں۔

دستاویزات کے مطابق مالی سال 2019-20 میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز نے بی آئی ایس پی سے 23 ارب 13 کروڑ روپے وصول کیے، جبکہ ملازمین کی نشاندہی کے باوجود 90 کروڑ روپے کی مزید ادائیگیاں بھی کی گئیں۔

مالی سال 2020-21 میں 12 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین نے 14 کروڑ 67 لاکھ روپے وصول کیے۔ 2021-22 میں 2 ہزار 447 اور 2022-23 میں 2 ہزار 235 سرکاری ملازمین نے پروگرام سے رقم حاصل کی۔

اسی طرح مالی سال 2023-24 میں 227، جبکہ 2024-25 میں 12 ہزار 78 سرکاری ملازمین کی جانب سے بی آئی ایس پی کی رقم وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

دستاویزات کے مطابق 24 ارب روپے کی بے ضابطگیوں کے مقابلے میں صرف 71 کروڑ روپے واپس لیے جاسکے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 54 کروڑ روپے جبکہ دیگر سرکاری محکموں نے 14 کروڑ 50 لاکھ روپے ریکور کیے۔ بی آئی ایس پی کے اپنے 236 ملازمین بھی اس معاملے میں ملوث پائے گئے، جن سے ادارے نے 2 کروڑ 15 لاکھ روپے واپس لیے۔

مزید انکشاف ہوا ہے کہ 29 ہزار روپے سے کم پنشن لینے والے 32 ہزار 971 غیر مستحق سرکاری ملازمین سے وصول کی گئی رقم کی واپسی معاف کردی گئی۔ دوسری جانب بی آئی ایس پی نے مالی بے ضابطگیوں میں ملوث سرکاری ملازمین کا ریکارڈ متعلقہ محکموں کو ارسال کردیا ہے اور 6 لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

یہ انکشافات سرکاری نگرانی کے نظام اور مستحق خاندانوں کے لیے مختص رقوم کی تقسیم پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ غربت کے خاتمے کے لیے قائم پروگرام سے غیر مستحق افراد کی جانب سے اربوں روپے وصول کیے جانے اور معمولی ریکوری کے باعث یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ رقم کی واپسی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے اب تک مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے جاسکے۔

متعلقہ خبریں