کراچی کے علاقے کلفٹن کے ساحل پر نایاب نسل کا سمندری کچھوا مردہ حالت میں پایا گیا ہے تاہم مردہ پایا گیا کچھوا اولیو ریـڈلے نسل کا ہے جو بحیرہ عرب میں کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔
تکنیکی مشیر ڈبلیو ڈبلیو ایف محمد معظم خان کے مطابق کچھوا سمندر یا کسی جال میں پھنسنے کے سبب مرا ہے، اولیو ریڈلے نسل کے کچھووں نے افزائش نسل کے لیے کراچی سمیت پاکستانی ساحلوں کا رخ کرنا چھوڑ دیا۔
انہوں نے بتایا کہ آج سے 20 سال قبل اولیوریڈلے کچھوا پاکستان میں بڑی تعداد میں ملتا تھا، حالیہ دنوں میں جیوانی کے قریب ماہی گیروں کے جال میں پھنسے 2 اولیوریڈلے کچھووں کو سمندر میں آزاد کیا جاچکا ہے تاہم اس نسل کا کچھوا سمندر میں ہزاروں میل کا سفر طے کرتا ہے۔
محمد معظم خان کے مطابق پڑوسی ملک میں ایک اولیو ریڈلے کچھوے کو جی پی ایس ٹیگ لگا کر اس کے سمندری سفر پر تحقیق کی گئی، اس دوران پتہ چلا کہ اس کچھوے نے ٹیگ لگنے کے بعد پورے بحیرہ عرب کو عبور کیا اور اومان میں جاکر افزائش نسل کے لیے قیام کیا، پاکستان میں بھی اس نوعیت کی تحقیق ضروری ہے۔
دوسری جانب کلفٹن ساحل پر نایاب سمندری کچھوے کی ہلاکت پر فشرمین سجاگ فورم نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سمندری کچھوے کی موت کی حتمی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔
محمد بخش جت نے کہا کہ سمندر میں پلاسٹک کی تھیلیاں اور کچرا سمندری حیات کی بقا کے لیے خطرہ ہیں، سمندری حیات کا تحفظ اور ماہی گیروں کے روزگار کے مواقع برقرار رکھنا ضروری ہے۔
