Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ بار انتخابات، انڈیپنڈنٹ گروپ کے امجد شاہ کو واضح برتری، وزیراعظم کی مبارکباد

حکومت وکلا برادری کو اصلاحاتی عمل میں اہم شراکت دار سمجھتی ہے، وزیر اعظم

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق احسن بھون کے انڈیپنڈنٹ گروپ نے واضح برتری حاصل کرلی ہے، جبکہ صدارتی امیدوار امجد شاہ ایک ہزار 322 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں۔

ملک بھر کے 13 پولنگ اسٹیشنز میں سے 10 کے نتائج سامنے آگئے ہیں، جن کے مطابق پروفیشنل گروپ کے امیدوار سردار امان خان 791 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔ کراچی، اسلام آباد اور کوئٹہ میں ووٹوں کی گنتی تاحال جاری ہے۔

پولنگ اسٹیشنز سے موصول ہونے والے غیر حتمی نتائج کے مطابق لاہور میں امجد شاہ نے 640 ووٹ حاصل کیے، جبکہ سردار امان خان کو 410 ووٹ ملے۔ پشاور میں امجد شاہ 183 ووٹوں کے ساتھ آگے رہے، جبکہ ان کے مدمقابل کو 116 ووٹ ملے۔

ملتان میں امجد شاہ نے 127 اور سردار امان خان نے 116 ووٹ حاصل کیے۔ بہاولپور میں امجد شاہ کو 82 اور سردار امان خان کو 46 ووٹ ملے، جبکہ ایبٹ آباد میں دونوں امیدواروں کے ووٹ بالترتیب 71 اور 15 رہے۔

حیدرآباد میں امجد شاہ نے 60 ووٹ حاصل کیے، جبکہ سردار امان خان کو 39 ووٹ ملے۔ سکھر میں امجد شاہ 52 ووٹ لے کر آگے رہے اور سردار امان خان کو 9 ووٹ ملے۔ سوات میں امجد شاہ نے 37 اور سردار امان خان نے 21 ووٹ حاصل کیے، جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دونوں امیدواروں کو بالترتیب 37 اور 7 ووٹ ملے۔ بنوں میں امجد شاہ نے 33 اور سردار امان خان نے 12 ووٹ حاصل کیے۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں کامیابی پر انڈیپنڈنٹ گروپ کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے گروپ کی قیادت اعظم نذیر تارڑ اور احسن بھون کو خصوصی مبارکباد پیش کرتے ہوئے نومنتخب صدر امجد شاہ اور دیگر عہدیداران کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ انڈیپنڈنٹ گروپ کی شاندار کامیابی وکلا برادری کے حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے۔ ان کے مطابق انتخابی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ وکلا برادری حکومت کی آئینی اور قانونی اصلاحات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت وکلا برادری کو اصلاحاتی عمل میں اہم شراکت دار سمجھتی ہے۔ انہوں نے انڈیپنڈنٹ گروپ کی قیادت کی محنت اور وکلا کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نومنتخب عہدیداران قانون کی بالادستی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

واضح رہے کہ انتخابات کے حتمی نتائج کراچی، اسلام آباد اور کوئٹہ سمیت باقی پولنگ اسٹیشنز پر گنتی مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version