Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کیا غباروں کے ذریعے بھی جاسوسی کرنا ممکن ہے؟ دلچسپ معلومات جانیے

ماہرین کا کہنا ہے کہ غباروں کے ذریعے جاسوسی کرنے کی ایک لمبی تاریخ ہے اور آج بھی ان کی مدد سے جاسوسی ممکن ہے۔

گزشتہ دنوں امریکی فضاؤں میں تیرتے ہوئے سفید رنگ کے ایک غبارے نے بین الاقوامی سطح پر ہلچل مچا دی تھی۔

غبارے کے حوالے سے چین کا کہنا تھا کہ وہ ان کا ہی غبارہ تھا جو موسمیاتی  ڈیٹا جمع  کرنے کیلئے فضا میں چھوڑا گیا تھا۔

 جبکہ امریکا کا دعویٰ تھا کہ یہ غبارہ جاسوسی کے مقاصد سے چین کی جانب سے امریکا کے حساس مقامات کی  نگرانی کیلئے امریکی فضائی حدود میں بھیجا گیا تھا۔

بعدازاں ہفتے کے روز ایک امریکی لڑاکا طیارے نے چین کے اُس جاسوسی غبارے کو جنوبی کیرولائنا کے ساحلی علاقے میں مار گرایا۔

 پھر امریکی حکام کی جانب سے بیان جاری کیا گیا کہ چینی غبارے میں نصب ڈیوائس کی تلاش جاری ہے جس کے مطالعے اور مشاہدے کے بعد چین کے عزائم کے بارے میں تفصیل سے کچھ کہا جا سکے گا۔

دوسری جانب چین کی جانب سے اسے امریکا کا ’’اوور ری ایکشن‘‘ اور سیاسی صورتحال کو مزید گرداب کی بھینٹ چڑھانے والی ’’بین الاقوامی آداب‘‘ کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔

حکومتیں نظرداری یا نگرانی کیلئے غباروں کا استعمال کیوں کرتی ہیں؟

ہائی ٹیک سائنسی اوزاروں سے لیس قدیم غباروں کے استعمال کے حوالے سے یونیورسٹی آف کولاراڈو بؤلڈر کے ائیرو اسپیس انجینئرنگ سائنسز شعبے کے پروفیسر این بائڈ کا کہنا ہے کہ عام طور پر  یہ غبارے موسمیاتی پیٹرنز کے مطالعے کیلئے فضا میں چھوڑے جاتے ہیں، ان کی سمت اور سفر کو کنٹرول کرنے کیلئے جدید ’گائیڈنگ اپریٹس‘ بھی نصب ہوتے ہیں، لیکن جاسوسی کیلئے ان کی افادیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ جاسوسی کے نقطہ نظر سے سیٹلائٹ صرف مخصوص طریقہ کار کے تحت اوپر کی سطح سے ہی چیزوں کا جائزہ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن یہ غبارے بلکل نچلی سطح پر گردش کرتے تیز رفتار سیٹلائٹس کے مقابلے میں بھی چیزوں کی مزید گہری اور صاف تصاویر سمیت واضح معلومات جمع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ ایک تیز رفتار سیٹلائٹ 90 منٹ کے دورانیے میں دنیا کا چکر لگا لیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version