Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ناسا کے تحقیقاتی طیارے کی ہنگامی لینڈنگ، عملہ محفوظ، ویڈیو وائرل

70 سال سے زائد پرانا ہونے کے باوجود یہ طیارہ آج بھی جدید اپ گریڈز اور سخت دیکھ بھال کی بدولت فعال ہے

امریکا کے شہر ہیوسٹن میں اس ہفتے ایک حیران کن اور سنسنی خیز واقعہ پیش آیا جب ناسا کا ایک تحقیقی طیارہ رن وے پر ہنگامی لینڈنگ کے دوران آگ اور دھویں میں گھِر گیا مگر خوش قسمتی سے عملے کے تمام افراد محفوظ رہے۔

یہ واقعہ ایلنگٹن فیلڈ ایئرپورٹ پر پیش آیا جہاں ڈبلیو بی 57 طیارے کے لینڈنگ گیئر میں اچانک خرابی پیدا ہوئی۔ طیارہ رن وے پر پہیوں کے بغیر پیٹ کے بل پھسلتا ہوا رکا اس دوران شعلے اور دھواں اٹھتا رہا جس نے منظر کو نہایت ڈرامائی بنا دیا۔

یہ طیارہ کوئی عام جہاز نہیں بلکہ ڈبلیو بی 57 نامی ایک خصوصی تحقیقاتی پلیٹ فارم ہے جو انتہائی بلندی پر سائنسی مشنز کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

 اس کی جڑیں 1950 کی دہائی کے مشہور بی 57 کینبرا بمبار طیارے سے ملتی ہیں جسے بعد میں جدید سائنسی تقاضوں کے مطابق تبدیل کیا گیا۔

ڈبلیو بی 57 کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی غیر معمولی بلندی پر پرواز کی صلاحیت ہے۔ یہ تقریباً 60 ہزار فٹ (18 کلومیٹر) کی بلندی تک جا سکتا ہے جہاں یہ عام فضائی ٹریفک اور موسمی خلل سے اوپر ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسے ماہرین فضا کی بالائی تہہ کے مطالعے، نایاب موسمی مظاہر اور خلائی مشنز کی تیاری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اسی طیارے نے 8 اپریل 2024 کو شمالی امریکا میں ہونے والے مکمل سورج گرہن کے دوران ایک منفرد کارنامہ انجام دیا، جب اس نے گرہن کے راستے کا تعاقب کرتے ہوئے چھ منٹ سے زائد وقت تک سورج کے بیرونی حصے کا مشاہدہ ممکن بنایا جو زمین سے ممکنہ دورانیے سے کہیں زیادہ تھا۔

ڈبلیو بی 57 کی ایک اور خاص بات اس کی لچکدار سائنسی ساخت ہے۔ اس میں مختلف قسم کے آلات جیسے آپٹیکل و انفراریڈ سینسرز، ریڈار، اسپیکٹرو میٹرز اور فضائی نمونے لینے کے نظام نصب کیے جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ہر مشن کے مطابق دوبارہ ترتیب دیا جا سکتا ہے جو اسے سیٹلائٹس کے مقابلے میں زیادہ لچکدار بناتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 70 سال سے زائد پرانا ہونے کے باوجود یہ طیارہ آج بھی جدید اپ گریڈز اور سخت دیکھ بھال کی بدولت فعال ہے اور سائنسدانوں کے لیے زمین اور خلا کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔

Exit mobile version