دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل میں قیادت کی بڑی تبدیلی کے بعد نئے چیف ایگزیکٹو جان ٹرنس کے معاوضے کی تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں، جن کے اعداد و شمار کسی کو بھی حیران کرسکتے ہیں۔
جان ٹرنس نے یکم ستمبر سے ایپل کے چیف ایگزیکٹو کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں جبکہ تقریباً 15 سال تک کمپنی کی قیادت کرنے والے ٹم کک اب ایپل کے ایگزیکٹو چیئرمین کے طور پر اپنی خدمات انجام دیں گے۔
امریکی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں جمع کرائی گئی دستاویز کے مطابق جان ٹرنس کی سالانہ بنیادی تنخواہ 30 لاکھ ڈالر مقرر کی گئی ہے تاہم اصل حیران کن رقم ان کے اسٹاک اور ایکویٹی ایوارڈز میں چھپی ہوئی ہے۔
ایپل نے مالی سال 2027 کے لیے جان ٹرنس کو 5 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مالیت کا سالانہ ایکویٹی ایوارڈ دینے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس طرح ان کا مجموعی ہدفی معاوضہ تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بڑی رقم کا بڑا حصہ فوری طور پر نقد شکل میں نہیں ملے گا۔ جان ٹرنس کے ایکویٹی ایوارڈ کا 75 فیصد حصہ کمپنی کی کارکردگی سے مشروط ہوگا جس کا تعلق ایپل کے شیئر ہولڈرز کے منافع کو ایس اینڈ پی 500 کی دیگر کمپنیوں کے مقابلے میں بہتر بنانے سے ہے۔
باقی 25 فیصد شیئرز وقت کے ساتھ مرحلہ وار دیے جائیں گے، جو چار سال کے دوران مخصوص شیڈول کے تحت منتقل ہوں گے۔
مزید یہ کہ مالی سال 2026 میں بطور چیف ایگزیکٹو جزوی مدت کی خدمات کے لیے جان ٹرنس کو 25 لاکھ ڈالر مالیت کا اضافی محدود اسٹاک یونٹ ایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سابق سی ای او ٹم کک بھی ایگزیکٹو چیئرمین کے نئے عہدے میں بھاری معاوضہ حاصل کریں گے۔ ان کی سالانہ بنیادی تنخواہ 20 لاکھ ڈالر مقرر کی گئی ہے، جبکہ مالی سال 2027 کے لیے انہیں 4 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مالیت کا ایکویٹی ایوارڈ دیا جائے گا۔
ٹم کک کے ایکویٹی ایوارڈ کا نصف حصہ کمپنی کی کارکردگی سے مشروط ہوگا، جبکہ باقی نصف مقررہ مدت کے دوران شیئرز کی صورت میں دیا جائے گا۔ ان کا مجموعی ہدفی معاوضہ تقریباً 4 کروڑ 70 لاکھ ڈالر بنتا ہے۔
یوں ایپل کے نئے سربراہ کی بنیادی تنخواہ بظاہر عام لگ سکتی ہے، مگر کمپنی کی شاندار کارکردگی کی صورت میں اسٹاک ایوارڈز ان کے معاوضے کو کروڑوں ڈالر تک پہنچا سکتے ہیں۔
یعنی ایپل کا نیا سی ای او صرف کمپنی نہیں سنبھالے گا بلکہ اس کی کارکردگی کے ساتھ اس کی آمدن بھی کروڑوں ڈالر کے حساب سے بڑھ سکتی ہے۔
