سائنسدانوں نے ہیرے کے بارے میں ایک ایسا حیران کن انکشاف کیا ہے جو مٹیریل سائنس میں کئی دہائیوں سے موجود تصور کو چیلنج کرتا ہے نئی تحقیق کے مطابق ہیرے کی ایک مخصوص ساخت کو مکینیکل دباؤ دینے یا موڑنے کی صورت میں برقی وولٹیج پیدا کیا جا سکتا ہے۔
ہانگ کانگ یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انتہائی باریک پولی کرسٹلائن ڈائمنڈ یعنی متعدد چھوٹے کرسٹل پر مشتمل ہیرے کی جھلی کو موڑنے سے قابلِ پیمائش برقی وولٹیج پیدا ہوتا ہے۔
معمولی موڑنے سے 70 ملی وولٹ وولٹیج
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے تقریباً 5 مائیکرومیٹر موٹی ہیرے کی جھلی تیار کی۔ جب اس فلم کو تقریباً 1.4 فیصد تک موڑا گیا تو اس میں تقریباً 70 ملی وولٹ کا برقی وولٹیج پیدا ہوا۔
یہ نتیجہ اس لیے غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ہیرے کو ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے تک ایسے مادے کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے جو مکینیکل دباؤ یا تناؤ کے نتیجے میں پیزو الیکٹرک انداز میں بجلی پیدا نہیں کرتا۔
بجلی کیسے پیدا ہوئی؟
پروفیسر ژیقِن چو اور پروفیسر یوان لِن کی قیادت میں محققین نے انتہائی باریک ہیرے کی جھلی تیار کرکے اسے مختلف انداز میں موڑنے اور اس پر مکینیکل دباؤ ڈالنے کے تجربات کیے۔
محققین کے مطابق پیدا ہونے والا برقی ردعمل محض رگڑ، سطحی اثرات یا ماحول کی وجہ سے نہیں تھا۔ اس کے بجائے اس کا تعلق ہیرے کی اندرونی ساخت میں موجود غیر متناسب گرین باؤنڈریز سے تھا۔
یہ گرین باؤنڈریز دراصل مختلف کرسٹل ذرات کے درمیان موجود انتہائی باریک حدود ہوتی ہیں۔ تحقیق سے ظاہر ہوا کہ یہی ساختی حدود ہیرے میں ایسی برقی قطبیت پیدا کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں جو مکینیکل دباؤ کے نتیجے میں وولٹیج پیدا کرسکتی ہے۔
خالص ہیرے میں یہ اثر کیوں نہیں ہوتا؟
اس تحقیق کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ خالص سنگل کرسٹل ڈائمنڈ میں یہ برقی اثر مکمل طور پر ختم ہوجاتا ہے۔
یعنی ہیرے کے اس غیر معمولی رویے کی وجہ اس کی مکمل بے عیبی نہیں بلکہ اس کے اندر موجود انتہائی باریک ساختی حدود اور معمولی ساختی خامیاں ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، وہ خصوصیات جنہیں ماضی میں ہیرے کی خامیاں سمجھا جاتا تھا، مخصوص حالات میں اسے ایک مفید توانائی پیدا کرنے والا مادہ بنا سکتی ہیں۔
مستقبل میں کہاں استعمال ہوسکتا ہے؟
سائنسدانوں کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں انتہائی چھوٹے الیکٹرانک آلات اور حساس سینسرز کے لیے نئے امکانات پیدا کرسکتی ہے۔ خاص طور پر ایسی ٹیکنالوجیز میں جہاں کسی مادی سطح پر لگنے والے دباؤ، موڑ یا کمپن کو براہِ راست برقی سگنل میں تبدیل کرنا مقصود ہو، یہ مواد اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
باریک ڈائمنڈ فلمز کی مدد سے مستقبل میں مائیکرو سینسرز، نینو الیکٹرانکس اور مکینیکل توانائی کو برقی توانائی میں تبدیل کرنے والے آلات تیار کرنے کے امکانات بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
مٹیریل سائنس میں اہم پیشرفت
ہیرے کو دنیا کے سخت ترین اور انتہائی مستحکم قدرتی مادوں میں شمار کیا جاتا ہے، اسی لیے اس میں اس نوعیت کے برقی ردعمل کی دریافت سائنسدانوں کے لیے خاصی اہم ہے۔
