تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اپنی تجویز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ابتدائی ردعمل سن لیا ہے تاہم تہران اب بھی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے حتمی مؤقف کا منتظر ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ نیویارک میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے سے متعلق اپنی شرائط پیش کی تھیں جن سے ثالثوں کو آگاہ کیا گیا اور بعد ازاں یہ شرائط امریکا تک پہنچائی گئیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تہران کو امریکی صدر کا ابتدائی ردعمل موصول ہوچکا ہے تاہم ثالثوں کی جانب سے ابھی تک واشنگٹن کا حتمی جواب نہیں پہنچایا گیا۔ ایران حتمی مؤقف کا انتظار کر رہا ہے جس کے بعد آئندہ کا فیصلہ کیا جائے گا۔
عباس عراقچی نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کھولنے یا مذاکرات میں پیش رفت کا انحصار ایران کی شرائط پوری کیے جانے پر ہوگا، ہمارا مؤقف واضح ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل ہی آگے بڑھنے کا قابلِ عمل راستہ ہے اور ایران نے سفارتی راستہ بند نہیں کیا۔ ایران ایسا حل چاہتا ہے جو مذاکرات، وقار اور انصاف کی بنیاد پر ہو اور ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔
