Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایران پر ’مدر آف آل بمز‘ گرانے کی تیاری، ٹرمپ کا نیا منصوبہ سامنے آ گیا

یہ امریکی اسلحہ خانے میں موجود سب سے بڑا غیر جوہری بم ہے

امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی صورت میں ’مدر آف آل بمز‘ سمیت نئے حملوں کے منصوبے تیار کرلیے ہیں، جن میں ایرانی توانائی تنصیبات اور جوہری پروگرام سے منسلک مقامات کو نشانہ بنانے کے امکانات شامل ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے بدھ کو امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوج کو ایران کے خلاف اضافی حملوں کے آپشنز تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ان منصوبوں پر عمل درآمد وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا بعد میں کیا جاسکتا ہے، تاہم اس کا انحصار صدر کے فیصلے پر ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ منصوبوں میں جی بی یو 43/بی میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ (ایم او اے بی) بم کے استعمال کا امکان بھی شامل ہے، جسے ’مدر آف آل بمز‘ کہا جاتا ہے۔ یہ امریکی اسلحہ خانے میں موجود سب سے بڑا غیر جوہری بم ہے۔ اس کا ممکنہ استعمال ایران کے خلاف جنگ میں نمایاں شدت پیدا کرسکتا ہے۔

سی این این کے مطابق امریکی فوجی منصوبہ سازوں نے ایران کی جوہری تنصیبات، بالخصوص پِک ایکس ماؤنٹین میں واقع مشتبہ زیرِ زمین تنصیب کو نشانہ بنانے کے لیے بھی مختلف آپشنز پر غور کیا ہے۔ واشنگٹن اور اسرائیل کا خیال ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض اجزا اس مقام پر محفوظ کر رکھے ہیں۔ تاہم ایران کی جانب سے ان دعوؤں کی تصدیق یا تردید سے متعلق تفصیلات اس رپورٹ میں شامل نہیں ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق فوج مختلف نوعیت کے حملوں کے منصوبے معمول کے مطابق تیار کرتی ہے تاکہ سیاسی قیادت ضرورت پڑنے پر ان میں سے کسی آپشن کا انتخاب کرسکے۔ ایک منصوبے کے تحت امریکی افواج کی خطے سے واپسی سے پہلے بھی حملے کیے جانے کا امکان زیرِ غور ہے۔

زیرِ زمین جوہری تنصیبات کو تباہ کرنا کتنا ممکن؟

ماہرین اور فوجی منصوبہ بندی سے واقف ذرائع نے اس بم کی مؤثریت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ جی پی ایس سے رہنمائی حاصل کرنے والا یہ بم بڑے رقبے میں شدید تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کا دھماکا تقریباً نو شہری بلاکس کے مساوی علاقے کو متاثر کرسکتا ہے، تاہم اسے گہرائی میں موجود زیرِ زمین تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق موٹی گرینائٹ چٹانوں اور مضبوط حفاظتی حصار کے نیچے قائم تنصیبات کو تباہ کرنے میں اس بم کی صلاحیت محدود ہوسکتی ہے۔ فوجی منصوبہ بندی سے واقف ایک ذریعے نے اسے بڑے علاقے میں تباہی پھیلانے والا ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ گہرائی میں موجود اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے یہ زیادہ مؤثر نہیں۔

شہری آبادی اور توانائی تنصیبات کو خطرات

ایران کے توانائی مراکز یا آبادی کے قریب واقع تنصیبات پر حملوں کی صورت میں بڑے پیمانے پر تباہی اور شہری ہلاکتوں کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام اس بم کے ممکنہ نفسیاتی اثرات کو بھی زیرِ غور رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ اس کا استعمال ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیا جاسکتا ہے۔

تاہم اضافی حملوں سے ایران کو امریکی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کی کامیابی کے بارے میں بھی غیر یقینی پائی جاتی ہے۔ فی الحال یہ منصوبے زیرِ غور فوجی آپشنز ہیں اور ان پر عمل درآمد کے لیے صدر ٹرمپ کی منظوری ضروری ہوگی۔

متعلقہ خبریں

Exit mobile version