Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

مذاکرات کے دوران حملوں پر ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا

معاہدے کو تباہ کرنے کے بعد اب ایران سے مذمت کا مطالبہ کیا جارہا ہے، اسماعیل بقائی

تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ 9 ماہ سے بھی کم عرصے میں مذاکرات کے دوران ایران پر 2 بار حملہ کیا گیا جب کہ اب ایران ہی سے مذمت کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

اسماعیل بقائی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ میناب میں بچوں کا قتل عام کیا گیا اور لامرد میں بچیوں کو شہید کیا گیا۔ ایرانی رہنماؤں کی شہادت کے ساتھ ساتھ ایرانی عوام پر پابندیاں بھی مزید سخت کی گئیں۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ 17 جون کو دستخط کیے گئے معاہدے کو تباہ کرنے کے بعد اب ایران سے مذمت کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

انہوں نے غیر قانونی جارحیت کے نتائج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کی قیمت علاقائی عدم استحکام اور عالمی معاشی عدم تحفظ کی صورت میں ادا کرنا پڑرہی ہے۔

اسماعیل بقائی کا مزید کہنا تھا کہ جنگ چھیڑ کر خطے میں آگ اور دنیا بھر میں افراتفری پھیلانے کے بعد خود کو مظلوم ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔ جارح کو مدعی اور مظلوم کو مجرم بناکر ذمہ داری سے فرار ممکن نہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں مذاکرات کے دوران حملوں، معاہدے کی خلاف ورزی اور پابندیوں کے معاملے پر ایران کا مؤقف پیش کرتے ہوئے عالمی سطح پر پیدا ہونے والے علاقائی اور معاشی اثرات کی نشاندہی کی۔

Exit mobile version