Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سیلفیز میں ’وی‘ سائن بنانے سے فنگر پرنٹس چوری ہونے کا خطرہ، ماہرین کا انتباہ

فتح یا امن کی علامت سمجھے جانے والا ’وی‘ ہینڈ جیسچر، طویل عرصے سے عالمی پاپ کلچر کا حصہ رہا ہے

بائیومیٹرک سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیشِ نظر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہائی ریزولوشن تصاویر میں ’وی‘ سائن بنانا لوگوں کے فنگر پرنٹس چوری ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔

فتح یا امن کی علامت سمجھے جانے والا ’وی‘ ہینڈ جیسچر، جس میں شہادت اور درمیانی انگلی کو باہر کی جانب کیا جاتا ہے، طویل عرصے سے عالمی پاپ کلچر کا حصہ رہا ہے تاہم اب ہائی ریزولوشن کیمروں اور جدید مصنوعی ذہانت اے آئی پر مبنی سافٹ ویئر کی آمد کے بعد سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقبول اشارہ لوگوں کے فنگر پرنٹس نقل کیے جانے اور بائیومیٹرک سیکیورٹی سسٹمز کو بائی پاس کرنے کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

چینی سیکیورٹی ماہر لی چنگ نے گزشتہ ماہ ایک ٹی وی پروگرام میں ایک مشہور شخصیت کی سیلفی کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وی سائن والی تصاویر میں انگلیاں کس قدر واضح نظر آتی ہیں اور یہ تصاویر کس طرح ذاتی بائیومیٹرک معلومات کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔

لی چانگ کے مطابق اگر تصویر 1.5 میٹر سے کم فاصلے سے لی جائے اور انگلیاں براہِ راست کیمرے کی طرف ہوں تو فنگر پرنٹس کی مکمل معلومات حاصل کیے جانے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں جس سے سیلفیز خاص طور پر خطرناک بن جاتی ہیں تاہم ان کے مطابق 3 میٹر تک کے فاصلے سے لی گئی تصاویر سے بھی تقریباً آدھے فنگر پرنٹس حاصل کیے جا سکتے ہیں، جہاں مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ٹی وی پروگرام کے دوران لی چانگ نے فوٹو ایڈیٹنگ سافٹ ویئر اور اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے دھندلی تصاویر کو واضح کر کے دکھایا کہ جو فنگر پرنٹس انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتے وہ بھی انتہائی تفصیل کے ساتھ سامنے لائے جا سکتے ہیں۔

دوسری جانب چائنیز اکیڈمی آف سائنس میں کرپٹوگرافی کے پروفیسر نے بھی تصدیق کی کہ جدید ہائی ڈیفینیشن کیمروں کی بدولت اب صرف وی پوز والی تصاویر سے ہاتھوں کی تفصیلی معلومات، بشمول فنگر پرنٹس، دوبارہ تخلیق کرنا تکنیکی طور پر ممکن ہو چکا ہے۔

اگرچہ لی چانگ کا یہ تجربہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور لوگوں میں سیکیورٹی خدشات پیدا ہوئے تاہم بعض ماہرین نے واضح کیا کہ کسی کے فنگر پرنٹس چرا کر بائیومیٹرک سیکیورٹی کو توڑنا اتنا آسان نہیں روشنی، کیمرے کا فوکس، تصویر کا معیار اور ایک ہی شخص کی متعدد تصاویر جیسے عوامل فنگر پرنٹس کی بحالی کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

لی چانگ نے مشورہ دیا کہ اگر لوگ اپنی بائیومیٹرک معلومات کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں لیکن پھر بھی سیلفیز میں وی سائن بنانا پسند کرتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے پہلے انگلیوں کے سِروں کو دھندلا کر دیں یا ڈیجیٹل ایڈیٹنگ ٹولز کے ذریعے فنگر پرنٹس کو کم واضح کر دیں۔