اسلام آباد: سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کو حنا جاوید قتل کیس پر بریفنگ دیتے ہوئے سی پی او راولپنڈی نے بتایا کہ واقعے کے بعد فرانزک ٹیم کو فوری طور پر طلب کیا گیا اور سائنسی طریقے سے 19 شواہد اکٹھے کیے گئے۔
سی پی او راولپنڈی کے مطابق کیس میں کوئی عینی شاہد موجود نہیں، تمام شواہد فرانزک کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں جب کہ ڈی این اے ٹیسٹ بھی کیے جارہے ہیں اور فرانزک رپورٹ آنا باقی ہے۔
سی پی او راولپنڈی نے سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کو بتایا کہ حنا جاوید قتل کیس کو انتہائی سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور واقعے کے بعد فوری طور پر فرانزک ٹیم کو جائے وقوعہ پر بلایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے سائنسی طریقہ کار کے تحت تمام شواہد اکٹھے کیے جب کہ پراسیکیوشن کی ٹیم بھی کیس کے آغاز سے ہی تحقیقات کے عمل میں شامل ہے۔
سی پی او کے مطابق کیس کی نگرانی کے لیے ایک سپروائزری ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے جب کہ پولیس پہلے دن سے مقتولہ کے اہل خانہ سے رابطے میں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس افسران نے کرائم سین کا بھی دورہ کیا اور وہاں سے حاصل کیے گئے شواہد کو فرانزک کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔
سی پی او راولپنڈی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ کیس میں فی الحال کوئی عینی شاہد موجود نہیں تاہم پولیس کے پاس 19 اہم شواہد ہیں جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شواہد کے فرانزک نتائج ابھی آنا باقی ہیں جب کہ کیس میں ڈی این اے ٹیسٹ بھی کیے جارہے ہیں اور پولیس نتائج کی منتظر ہے۔
سی پی او نے مزید بتایا کہ حنا جاوید کے سسر بھی کیس کی تفتیش میں شامل ہیں اور ان سے بھی تفتیش کی جارہی ہے۔
اس موقع پر سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کی رکن قرۃالعین مری نے کہا کہ پراسیکیوشن ٹیم کو ابھی سے کمیٹی کے سامنے بلایا جائے اور ان کا مؤقف بھی سنا جائے۔
سی پی او راولپنڈی نے یقین دہانی کرائی کہ حنا جاوید قتل کیس کو بہت سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور تحقیقات میں تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جارہا ہے۔
















