Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

ایف بی آر نے ایکسپورٹرز کے لیے عائد سپر ٹیکس ختم کردیا

نئی ترامیم کے تحت ٹیکس دہندگان کو مخصوص آڈیٹر کی تعیناتی پر اعتراض کا حق بھی حاصل ہوگا

ایف بی آر نے پچاس کروڑ روپے سے زیادہ آمدن والے ایکسپورٹرز کو ریلیف فراہم ہوئے ایکسپورٹرز کے لیے عائد سپر ٹیکس ختم کردیا۔

 فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس قوانین میں اہم ترامیم جاری کرتے ہوئے 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن والے ایکسپورٹرز کو ریلیف فراہم کر دیا ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے مطابق ایسے ایکسپورٹرز جن کی ایکسپورٹ پروسیڈز کل ٹرن اوور کے 80 فیصد سے زائد ہوں گی، انہیں سپر ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔

ترامیم کے تحت 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر عائد سپر ٹیکس کی شرح بھی 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔ تاہم سپر ٹیکس سے استثنیٰ حاصل کرنے کے لیے ایکسپورٹ آمدن کا کل ٹرن اوور کے 80 فیصد سے زائد ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ایف بی آر نے ٹیکس نظام میں آڈٹ سے متعلق اختیارات میں بھی اضافہ کیا ہے۔ نئے قواعد کے تحت بعض مخصوص کیسز میں اکاؤنٹس کا دوبارہ آڈٹ کرایا جا سکے گا، تاہم اس مقصد کے لیے چیف کمشنر کی پیشگی منظوری لازمی ہوگی۔

سرکلر کے مطابق ضرورت پڑنے پر انوینٹری کی دوبارہ ویلیوایشن بھی کرائی جا سکے گی، جبکہ ایکچوئیریل ویلیوز کے دوبارہ تعین کی بھی اجازت دے دی گئی ہے۔

نئی ترامیم کے تحت ٹیکس دہندگان کو مخصوص آڈیٹر کی تعیناتی پر اعتراض کا حق بھی حاصل ہوگا۔

دوسری جانب ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں شامل نہ ہونے والے افراد پر سرچارج میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ تاہم جائیداد خریدنے سے متعلق تحریری یقین دہانی فراہم کرنے کی صورت میں سرچارج سے استثنیٰ حاصل کیا جا سکے گا۔

سرکلر کے مطابق ٹیکس دہندہ کو چھ ماہ کے اندر جائیداد خریدنے کی تحریری یقین دہانی دینا ہوگی، جس کے بعد مقررہ شرائط پوری ہونے کی صورت میں سرچارج سے استثنیٰ دیا جا سکے گا۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ان ترامیم کا مقصد ٹیکس نظام میں بہتری، ایکسپورٹرز کو سہولت فراہم کرنا اور ٹیکس قوانین میں موجود بعض عملی مسائل کو دور کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں