Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

وزیراعظم نے آئندہ 5 سالوں کے لئے نئی آٹو پالیسی کی منظوری دے دی

آٹو پالیسی میں مقامی طور پر تیار کردہ آٹو پارٹس پر مراعات اور گاڑیوں کی برآمد کے اہداف شامل ہیں۔

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ پانچ سالوں کے لیے نئی آٹو پالیسی کی منظوری دے دی جس میں مقامی طور پر تیار کردہ آٹو پارٹس پر مراعات، گاڑیوں کی برآمد کے اہداف اور ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے اقدامات شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق حتمی منظوری کے لیے آٹو پالیسی پر آئی ایم ایف سے مشاورت کی جائے گی، منظوری کے بعد پالیسی ای سی سی اور وفاقی کابینہ میں پیش کی جائے گی جبکہ اسے قومی اسمبلی سے سپلیمنٹری فنانس بل کے ذریعے منظور کروائے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق نئی آٹو پالیسی میں حکومت کی جانب سے آٹو سیکٹر میں لوکلائزیشن کے فروغ پر خصوصی توجہ دینے کی تجویز شامل ہے۔

نئی آٹو پالیسی کے تحت مقامی طور پر تیار کردہ آٹو پارٹس پر مراعات دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جبکہ آٹو کمپنیوں کے لیے گاڑیوں کی برآمد کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق نئی آٹو پالیسی میں ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے حوالے سے اقدامات بھی شامل ہیں۔

نئی آٹو پالیسی میں ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد پر آئندہ پانچ سال میں ٹیکس میں 20 فیصد کمی کی تجویز دی گئی ہے۔

1800 سی سی سے زائد ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد پر آئندہ پانچ سال کے دوران ٹیکس میں مرحلہ وار کمی کی تجویز بھی شامل ہے۔

1801 سی سی سے زائد ہائبرڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی پانچ سال میں مرحلہ وار 50 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

1501 سے 1800 سی سی تک ہائبرڈ گاڑیوں پر بھی ڈیوٹی 50 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد تک لانے کی تجویز ہے۔

851 سے 1000 سی سی اور 800 سی سی تک ہائبرڈ گاڑیوں پر بھی آئندہ پانچ سال میں ڈیوٹی 50 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

نئی آٹو پالیسی میں ہائبرڈ ٹرک پر ڈیوٹی 30 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

ہائبرڈ کمرشل گاڑیوں پر ڈیوٹی 60 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد جبکہ ہائبرڈ بسوں پر ڈیوٹی 30 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد تک لانے کی تجویز دی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں