بچوں کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا اور ان کے طبی ٹیسٹ کروانا اکثر والدین کے لیے مشکل ہوتا ہے، لیکن اب سائنسدانوں نے ایک ایسی منفرد ڈیوائس تیار کی ہے جو بچوں کے لیے ٹیسٹ کے عمل کو آسان اور دلچسپ بنا سکتی ہے۔
امریکا کی یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے محققین نے کینڈی پاپ جیسی شکل کا ایک آلہ تیار کیا ہے، جسے ’لولی لیب‘ کا نام دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ انسانی تھوک صحت سے متعلق کئی اہم معلومات فراہم کر سکتا ہے یہاں تک کہ اس کی مدد سے دل کی کمزوری جیسی بیماریوں کی علامات تک بھی معلوم کی جاسکتی ہیں تاہم طبی ٹیسٹ خصوصاً بچوں کے لیے تھوک کے نمونے جمع کروانا بھی کوئی خوشگوار تجربہ نہیں ہوتا۔
یہ آلہ بچے کے منہ میں موجود تھوک کے ذریعے جسم میں ایک عام دوا کی مقدار معلوم کر سکتا ہے۔ اس کے لیے خون کا نمونہ لینے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔
لولی لیب کو خاص طور پر ایسیٹامینوفین نامی دوا کی مقدار معلوم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ دوا درد، نزلہ اور زکام کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی کئی ادویات میں شامل ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آواز سن کر اسٹکی نوٹ لکھنے والی حیرت انگیز ڈیوائس
اس دوا کی زیادہ مقدار جگر کو نقصان پہنچا سکتی ہے جبکہ بچوں کو غلطی سے زیادہ دوا دے دینا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
محققین کے مطابق اس آلے کے ذریعے صرف چھ قطروں کے برابر تھوک سے ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے۔ تھوک آلے کے سوراخوں سے اندر داخل ہوتا ہے اور تقریباً ایک منٹ میں اس کے سینسر تک پہنچ جاتا ہے۔

اس آلے کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے اوپر سرخ رنگ کی آڑو کے ذائقے والی مٹھاس لگائی گئی ہے، جس کی وجہ سے بچے اسے لالی پاپ سمجھ کر چاٹ سکتے ہیں اور آسانی سے اپنا نمونہ دے سکتے ہیں۔
لولی لیب میں ایک خاص سینسر لگا ہے جو تھوک میں دوا کی موجودگی کا پتا لگاتا ہے۔ جب تھوک سینسر تک پہنچتا ہے تو اس میں ایک کیمیائی عمل ہوتا ہے، جس سے برقی سگنل پیدا ہوتا ہے۔ آلہ اس سگنل کی مدد سے دوا کی مقدار معلوم کرتا ہے۔
محققین نے اس آلے کو مصنوعی تھوک اور انسانی تھوک دونوں پر آزمایا۔ ابتدائی تجربے میں 6 بالغ افراد نے دوا استعمال کرنے کے بعد اس آلے کو چاٹ کر اپنے نمونے فراہم کیے۔
نتائج کے مطابق لولی لیب دو منٹ سے بھی کم وقت میں دوا کی موجودگی معلوم کرنے میں کامیاب رہا۔ تجربے میں شامل افراد نے بھی اسے تھوک کا نمونہ لینے کے روایتی طریقے سے زیادہ آسان قرار دیا۔
تاہم یہ آلہ ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے اور اسے عام استعمال کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔
محققین مستقبل میں مزید افراد پر اس کے تجربات کرنے اور اسے دیگر بیماریوں یا جسم میں موجود مختلف مادوں کی نشاندہی کے قابل بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ہو گئی تو مستقبل میں بچوں کے طبی ٹیسٹ کروانا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو سکتا ہے۔















