Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پنجاب اسمبلی از خود تحلیل ہوگئی، گورنر نے سمری پر دستخط نہیں کیے

گورنر بلیغ الرحمان کے دستخط نہ کرنے کے باوجود پنجاب اسمبلی ازخود تحلیل ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق گورنر پنجاب بلیغ الرحمن نے وزیراعلی کی سمری پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تاہم آئین و قانون کے مطابق پنجاب اسمبلی 48 گھنٹے گزرنے کے بعد تحلیل ہو گئی۔ چوہدری پرویز الہی اب 8 روز کے لئے نگران وزیراعلی ہوں گے۔

گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نے پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد ایک متفقہ نام کے لیے وزیراعلی پنجاب اور قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی کو مراسلے جاری کر دیے۔

نگران وزیراعلی کی تقرری کے عمل کا آغاز

آئین کے آرٹیکل 224 اے کے تحت جب اسمبلی تحلیل ہو جائے تو نگران وزیراعلی کے قیام کا عمل شروع ہوجائے گا۔ چوہدری پرویز الہی نگران وزیر اعلی کےلئے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو نگران وزیر اعلی کےلئے خط لکھیں گے۔ اس حوالے سے تین نام پرویز الہی اور تین نام حمزہ شہباز دیں گے۔

اسمبلی تحلیل کے بعد نگران وزیراعلی 3 دن کے اندر اندر نامزد کرنا ہوگا۔ قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف باہمی مشاورت سے نگران وزیراعلی کو نامزد کریں گے، اگر دونوں میں اختلاف ہو جائے تو اسپیکر فوری طور پر ایک کمیٹی تشکیل دے گا۔

یہ بھی پڑھیں؛ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے فوراً بعد کے پی اسمبلی تحلیل ہوگی

کمیٹی 6 رکنی ہوگی جس میں 3 اپوزیشن اور 3 حکومت کے ارکان اسمبلی شامل ہوں گے، کمیٹی 3 روز میں وزیراعلی اور قائد حزب اختلاف کے بھجے گئے ناموں میں ایک کا چناؤ کریں گے۔

3  روز میں اگر کمیٹی کسی ایک نام پر اتفاق رائے نہ کر سکی تو پھر معاملہ چیف الیکشن کمشنر کے پاس جائے گا، جو نام قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف نے دئیے ہوں گے وہ چیف الیکشن کمشنر بھیجے جائیں گے، چیف الیکشن کمشنر 2 روز میں ان میں سے کسی ایک کو نگران وزیراعلی نامزد کریں گے۔

نگران سیٹ اپ کیلیے مشاورت

دوسری جانب پنجاب میں نگران سیٹ اپ کیلئے عمران خان نے کل پرویز الہٰی سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے، عمران خان اور پرویز الہٰی کی کل زمان پارک میں ملاقات ہوگی۔

ملاقات میں نگران سیٹ اپ کیلئے ناموں پرمشاورت ہوگی، عمران خان مشاورت کے بعد پرویز الہٰی کو نگران سیٹ اپ کیلئے نام دیں گے۔

ادھر پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام ممبران اسمبلی پنجاب کا شکریہ ، جنہوں نے دھمکیوں اور کروڑوں روپوں کی آفرز ٹھکرایا اور عام انتخابات کی راہ ہموار کی۔

انہوں نے کہا کہ  ہمارے اقلیتی اور خواتین ارکان نے جس کردار کا مظاہرہ کیا،  وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے،  قوم اور پارٹی کی طرف دے آپ کا شکریہ۔

متعلقہ خبریں