بیرونِ ملک جانےسے روکنے کے کیس میں ڈائریکٹرایف آئی اے نے عدالت سے معافی مانگ لی۔
تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ میں چوہدری مونس الہی کی اہلیہ تحریم الہی کوبیرون ملک جانے سے روکنے کےکیس کی سماعت ہوئی۔
دورانِ سماعت ڈائریکٹر ایف آئی اے کے بجائے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کےدستخط سے رپورٹ پیش کرنے پرعدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آخری سماعت پربھی کہاتھا کہ رپورٹ ایف آئی اے کاسربراہ جمع کرائے گا۔
عدالت نے کہا کہ تم ملازمت کرنا چاہتے ہویا الیکشن لڑنا چاہتے ہو؟ واضع ہے کہ تمہارا مقصد سیاسی ہے۔ بتاؤ ذرا کتنے لوگوں کےنام اسٹاپ لسٹ میں ڈالے ہیں۔ جس لسٹ میں نام ڈالا گیا وہ تو اشتہاریوں سے متعلق ہے۔
لاہورہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ای سی ایل پرنام ڈالنے کےلئے کتنے وزرا پر مشتمل کمیٹی بنی ہے؟ اسٹاپ لسٹ پر نام خود ہی ڈالے جارہے ہو۔ عدالت ملک بھرکی اسٹاپ لسٹ پر ڈالے گئے نام طلب کرے گی، اندازوں پر کسی کا نام تو سٹاپ لسٹ میں نہیں ڈالا جاسکتا۔
عدالتِ عالیہ نے کہا کہ درخواست گزارکےخلاف تو کوئی مقدمہ نہیں نہ ہی انکوائری ہے۔ جس کےاکاؤنٹ سے پیسے آئے اس کا کےخلاف تو مقدمہ بھی خارج ہوچکا۔ واضح ہے کہ صرف سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
وکیل درخواست گزارامجد پرویزنے کہا کہ لاہورہائی کورٹ کا جواب فائل کےساتھ لگا ہونے کےباوجود کہاجارہا ہے کہ جواب نہیں آیا جس پر عدالت نے کہا کہ عدالت کوعلم ہے کہ انہوں نے عدالت میں جھوٹ بولاہے۔ عدالت اس معاملے کو مثال بنائے گی۔ ایک سرکاری ملازم غلط کام بھی کرے اورآ کرعدالت میں جھوٹ بولے یہ برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
سماعت کے دوران ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت سے معافی مانگ لی جس کے بعد عدالت نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کو تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 27جنوری تک ملتوی کردی۔




















