سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا ہے کہ 75 سال گزرنے کے باوجود بھی لوگوں کیساتھ سچ نہیں بولا جارہا جب کہ ملک اس وقت معاشی دیوالیہ پن کے قریب پہنچ چکا ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ قومی ڈائیلاگ میں ہونیوالی گفتگو پاکستان کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے، 75 سال گزرنے کے باوجود بھی لوگوں کیساتھ سچ نہیں بولا جارہا، ایک سروے کے مطابق ملک کا 70 فیصد نوجوان ملک چھوڑ کر جانا چاہتا ہے۔
مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نہ تو جمہوریت ہے نہ ہی انسانی حقوق ، 75 سالوں میں آخر ہم نے کیا سبق سیکھا، پہلے دن ہی فیصلہ کرلیا گیا تھا کہ اس ملک میں جمہوریت کو نہیں چھوڑنا، :کوئی ایسا موقع جانے نہیں دیا گیا کہ جہاں لوگوں کو ملک سے دور نہ کیا ہو۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی وہ سیاست نہیں کی جارہی جس کی ضرورت ہے، ملکی سیاست میں عوامی مسائل کا ذکر نہیں ہورہا، ملک اس وقت معاشی دیوالیہ پن کے قریب پہنچ چکا ہے، سیاست کو آگے بڑھنے کا موقع نہ دیا تو ہمارے پاس وقت بہت کم رہ جائیگا۔
مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ گوادر کے مسائل کا حل کیوں نہیں نکالا جارہا، ایک شخص کے ایکسٹینشن کیلئے سب متحد لیکن بلوچستان کیلئے کیوں لوگ اکھٹے نہیں ہوسکتے، جو گفتگو بلوچستان میں ہورہی ہے وہی پنجاب میں بھی ہورہی ہے ، لوگوں کا رشتہ آئین اور ریاست سے ٹوٹ رہا ہے، سیاست کی آزادی تک ہم کچھ نہیں کرپائیں گے۔


















