عالمی دنیا کے دو عظیم فٹ بالرز کی ٹیم کے مابین ہونے والے نمائشی میچ سے سعودی عرب میں نئے عہد کا آغاز ہو گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ریاض میں جمعرات کو ہونے والے اس نمائشی میچ نے تماشائیوں کو بہترین تفریح فراہم کی، کرسٹیانو رونالڈو، لیونل میسی، نیمار اور ایمباپے جیسے معروف کھلاڑیوں کی شرکت نے میچ میں چار چاند لگا دیئے۔
شاندار آتش بازی کے ساتھ شروع ہونے والا یہ میچ صحرا کو نخلستان بنانے کی مانند تھا، اس میچ میں لیونل میسی کی ٹیم نے کرسٹیانو رونالڈو کی ٹیم کو 4-5 سے شکست دی تھی۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے خوبصورت کنگ فہد اسٹیڈیم میں 60 ہزار تماشائیوں کے سامنے ہونے والا یہ میچ تاریخی گواہ بن چکا ہے جو سعودی عرب کا نیا چہرہ دنیا کے سامنے پیش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب میں خواتین سیکیورٹی اہلکاروں کی پاسنگ آؤٹ تقریب
پہلے غیر مسلم سیاحوں کو اجازت دینے اور خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے کے صرف پانچ سال بعد، سعودی عرب اپنے قدامت پسند، طویل المیعاد معاشرے کو دنیا کے لیے کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سعودی عرب پہلے ہی فیفا ورلڈ کپ اور سمر اولمپکس کی میزبانی کے لیے اپنی پیشکش دے چکا ہے، کھیلوں کی تنظمیں سعودی عرب کے اس نئے انداز سے بے حد متاثر بھی ہیں۔
جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے سربراہ ترکی الشیخ نے سعودی عرب کے پرجوش ترقیاتی منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ نمائشی میچ ایک بڑا میچ ہے لیکن ویژن 2030 میں جو کچھ ہوگا اس کے مقابلے میں یہ کچھ نہیں ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب اپنی قدامت پسندی سے باہر نکل رہا ہے جس کا ثبوت فارمولا ون اور گولف اوپن جیسے کھیلوں کے عالمی مقابلے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب، کھیلوں کی خریداری کا جوش
آنے والے برسوں میں سعودی عرب جس نے ہمسایہ ملک قطر کو نومبر اور دسمبر میں ورلڈ کپ کی میزبانی کے طور پر دیکھا، مردوں اور خواتین کے ایشین کپ، اولمپک سائز کے ایشین گیمز اور یہاں تک کہ ایشین ونٹر گیمز بھی مصنوعی برف پر منعقد کرنے جا رہا ہے۔

یہ سب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے عظیم منصوبوں کا حصہ ہے جس کے مطابق سعودی معیشت کو جدید بنانے اور دنیا کے دیگر ایندھن کی طرف جانے سے پہلے اس کا تیل پر انحصار ختم کرنا ہے۔
جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے سربراہ ترکی الشیخ نے ولی عہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میرا لیڈر سعودیوں کو بہت سی چیزوں سے حیران کر دے گا۔”

ترکی الشیخ کے مطابق ہم ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مطالبات کو کسی بھی وقت پورا کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن جو آنے والا ہے وہ بہت بڑا ہے۔”
واضح رہے کہ سعودی عرب مصر اور یونان کے ساتھ 2030 کے ورلڈ کپ کے لیے مشترکہ بولی کے بارے میں بات کر رہا ہے۔
گزشتہ سال سعودی عرب کے وزیر کھیل نے بتایا تھا کہ اولمپکس کی میزبانی حتمی مقصد ہے۔
جارج ٹاؤن یونیورسٹی قطر کے وزٹنگ ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈینیئل ریشے نے کہا، “رونالڈو کی منتقلی صرف شروعات ہے۔
ڈینیئل ریشے نے کہا کہ اس سے قطع نظر کہ لیونل میسی سعودی عرب کی سرزمین پر کھیلیں گے یا نہیں، میں مزید سپر اسٹارز کو سعودی عرب جاتے دیکھ رہا ہوں۔


















