آج ہم آپکو بتائیں گے کہ اکثر افراد کو وقت تیزی سے گزرنے کا احساس کیوں ہوتا ہے۔
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی ہے تو ہمارے دماغ کی اندرونی گھڑی کی رفتار سست ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں زندگی تیز رفتار محسوس ہونے لگتی ہے۔
وقت گزرنے کے احساس اور نئی ادراکی تفصیلات کے درمیان تعلق موجود ہے۔ یعنی جب ہم چھوٹے ہوتے ہیں تو سب کچھ نیا لگتا ہے جس کے باعث ہمارے دماغ کو زیادہ تجزیہ کرنا پڑتا ہے اور اس کے نتیجے میں وقت گزرنے کی رفتار سست محسوس ہوتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ کسی منفرد سرگرمی کے نتیجے میں دماغ سے خارج ہونے والے ہارمون ڈوپامائن کے اخراج کی شرح میں 20 سال کی عمر کے بعد کمی آنے لگتی ہے جس کے باعث ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ وقت بہت تیز رفتاری سے گزر رہا ہے۔
معمولات زندگی کے اثرات
جب ہماری عمر بڑھتی ہے تو زندگی کے معمولات بھی یکساں ہونے لگتے ہیں اور کچھ نیا سیکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔
تو جب زندگی کے شروع میں ہم نئی چیزوں کا حصہ بنتے ہیں تو وقت سست روی سے گزرتا ہوا محسوس ہوتا ہے مگر جب ہماری زندگی ایک جگہ ٹھہر جاتی ہے اور لگے بندھے معمولات پر مشتمل ہوتی ہے تو وقت بہت تیزی سے گزرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
یعنی اگر عمر بڑھنے کے باوجود نئی سرگرمیوں کا حصہ بننے کو ترجیح دی جائے تو پھر وقت تیزی سے گزرنے کا احساس نہیں ہوگا۔
خوشی اور وقت گزرنے کا احساس
جب آپ بہت خوش ہوں اور کسی من پسند سرگرمی کا حصہ بن جائیں تو ایسا محسوس ہو کہ وقت پر لگا کر گزر رہا ہے لیکن جب بیزار یا اداس ہوں تو وقت کاٹنا مشکل ہوجاتا ہے۔
ہمارا دماغ وقت گزرنے کے احساس کو مختلف رفتار سے پیش کرتا ہے اور اس کا انحصار ہماری مصروفیت یا بیزاری پر ہوتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ دماغ میں وقت کے حوالے سے مختلف میکنزم ہوتے ہیں جن میں سے ایک میکنزم رفتار کا ہے جو کہ دماغی خلیات کو متحرک کر کے کسی سرگرمی کے لیے نیٹ ورک کو تشکیل دیتا ہے۔
یہ خلیات جتنی تیزی سے اپنا راستہ بناتے ہیں، اتنا ہی ہمیں وقت تیزی سے گزرتا محسوس ہوتا ہے۔




















