Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

دنیا کی تاریخ میں ایلون مسک سے بھی زیادہ امیر شخص کون ہے؟ جانیے

جب بھی دنیا کے امیر ترین افراد کے بارے میں بات کی جاتی ہے تو ایلون مسک، برنارڈ آرنلٹ، جیف بیزوس اور بل گیٹس جیسے نام لیے جاتے ہیں۔

لیکن آج ہم آپ کو دنیا کی تاریخ کے اس امیر ترین شخص کے بارے میں بتائیں گے جس کی دولت کا مقابلہ اب تک کوئی نہیں کر سکا ہے۔

    اس کے لیے ماضی میں یعنی 14 ویں صدی میں جانا ہوگا۔

تاریخ دانوں کے مطابق دنیا کی تاریخ کا امیر ترین فرد مغربی افریقی ملک مالی پر حکومت کرنے والا ایک بادشاہ تھا۔ جس کا نام منسا موسیٰ تھا، یہ وہ بادشاہ ہیں جن کی دولت کا تخمینہ لگانا بھی مشکل ہے۔

مالی سلطنت کے سلطان منسا موسیٰ

منسا کا مطلب سلطان یا بادشاہ ہے اور کہا جاتا ہے کہ ان کی پیدائش 1280 کے قریب ہوئی تھی۔ وہ 1312 میں اپنے بھائی ابوبکر کی جانب سے تخت چھوڑے جانے پر بادشاہ بنے۔

منسا موسیٰ کے بھائی بحر اوقیانوس کے سفر پر نکلے تھے اور اپنے ساتھ 2 ہزار بحری جہازوں کو لے کر گئے تھے، پھر ان کی واپسی نہیں ہوئی۔

 

تاریخ دانوں کے خیال میں منسا موسیٰ ایسے نظر آتے تھے / سوشل میڈیا فوٹو

 

اسی طرح منسا موسیٰ مغربی افریقی سلطنت کے 9 ویں سلطان بنے اور جب وہ تخت نشین ہوئے تو اس وقت بھی وہ بہت امیر تھے۔

اب سوال یہ ہے کہ وہ امیر کیوں تھے؟

دراصل اس زمانے میں یہ سلطنت سب سے زیادہ مقدار میں سونا نکال رہی تھی اور دنیا کی مجموعی سپلائی کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ اس کی ملکیت تھا۔

منسا موسیٰ کے تخت پر بیٹھنے کے بعد اس سلطنت نے تیزی سے پھیلنا شروع کر دیا جبکہ تجارت پر بھی بہت زیادہ توجہ مرکوز کی گئی۔

نمک اور سونے کے ذخائر کی کان کنی کے باعث منسا موسیٰ کی دولت میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا جبکہ ہاتھی دانت کی تجارت نے بھی انہیں مزید امیر کیا۔

ان کے عہد میں یہ سلطنت 3 ہزار کلو میٹر رقبے پر پھیل چکی تھی جس میں ٹمبکٹو سمیت 24 شہر موجود تھے اور انہیں کبھی کسی جنگ میں شکست کا سامنا نہیں ہوا۔

حج کا سفر

تاریخ دانوں کے مطابق منسا موسیٰ درویش صفت حکمران تھے اور 1324۔1325 کو وہ حج کے سفر پر روانہ ہوئے جسے تاریخ کا پرشکوہ ترین سفر حج قرار دیا جاتا ہے۔

ساڑھے 6 ہزار کلو میٹر کے اس سفر کے لیے وہ اپنے ساتھ 60 ہزار افراد کے ساتھ نکلے تھے۔

ان تمام افراد کے لیے فارسی ریشم کے لباس اور طلائی زربفت تیار کیے گئے تھے جبکہ اونٹوں پر خالص سونے کے تھیلے لدے ہوئے تھے۔

اس سفر کے لیے وہ صحرائے اعظم صحارا اور مصر سے گزرے تھے اور قاہرہ میں انہوں نے اتنا زیادہ سونا بانٹا کہ مقامی معیشت ہل کر رہ گئی اور وہاں سونے کے قیمت نمایاں حد تک گرگئی، درحقیقت اس سخاوت کا اثر منسا موسیٰ کے وہاں سے نکلنے کے 10 سال بعد تک برقرار رہا۔

حج کے بعد کی زندگی

حج سے واپسی پر منسا موسیٰ نے اپنی سلطنت کی تعمیر نو پر کام شروع کیا اور ان کے عہد کی تعمیرات سے ان کا نام پوری دنیا میں مشہور ہوا۔

اس مقصد کے لیے انہوں نے اندلس (اب اسپین) سے تعلق رکھنے والے شاعر اور آرکیٹیکٹ ابو اسحاق ابراہیم الساحلی کی خدمات حاصل کی تھیں اور انہیں 200 کلو گرام سونا انعام میں دیا۔

ان کا انتقال 1337 میں ہوا اور ان کے بیٹوں نے تخت سنبھالا مگر وہ ریاست کو سنبھال نہیں سکے۔

کتنے امیر تھے؟

کچھ تاریخ دانوں کا تخمینہ ہے کہ منسا موسیٰ کی دولت موجودہ عہد کے 400 سے 500 ارب ڈالرز کے قریب تھی۔

 

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں