خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری نبھاتے ہوئے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد کرے گا۔
تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیر آبی وسائل سید خورشید احمد شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ آئین اور قانون کے مطابق اسمبلی تحلیل کردی گئی ہے، اب الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری نبھاتے ہوئے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد کرے گا۔
خورشید احمد شاہ نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران سیاسی ماحول میں جوش و خروش ہوتا ہے مگر کسی سیاسی پارٹی کو کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہئے جس سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2018 کے کئی انتخابی نتائج کو کھلم کھلا دھاندلی سے تبدیل کیا گیا تھا، دھاندلی کی وجہ سے وہ انتخابات ناقابل قبول تھے مگر ہم نے ملک کے وسیع تر مفاد میں دھنگا فساد کی بجائے اسمبلیوں میں بیٹھنے کو ترجیح دی۔
سابق وفاقی وزیر آبی وسائل کا کہنا تھا کہ سیاسی اور ملی پختگی کا تقاضا ہے کہ ہم چھوٹے صوبوں کو ساتھ لے کر چلیں اور انہیں احساس محرومی کا شکار نہ ہونے دیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس طرح ایک پارٹی کے فائدے کیلئے پہلے پنجاب میں حکومت بنوائی گئی، پھر توڑی گئی پھر سوموٹو کے تحت ایک پارٹی کے ایڈوانٹج کیلئے صرف پنجاب کے الیکشن کا انتظام کیا گیا تاکہ پنجاب کی اکثریت دوسرے صوبوں پہ بھی اثر انداز ہو تو ایسے ہتھکنڈے مزید برداشت نہیں کئے جائیں گے۔
خورشید احمد شاہ نے کہا کہ اُس وقت بھی یہ آئینی درد خیبر پختون خواہ کیلئے نہیں اُٹھا تھا مگر بڑا صوبہ ہونے کے ناطے یہ انتظام صرف پنجاب اور ایک پارٹی کیلئے کیا گیا تھا۔
سابق وفاقی وزیر آبی وسائل سید خورشید احمد شاہ نے مزید کہا کہ اسی طرح 2018 میں بھی عدل والوں نے کئی کھیل کھیلے اور ملک کو عدم استحکام سے دوچار کیا مگر اب ایسے کھیلوں سے اجتناب ضروری ہے تاکہ ملک پھر سے معاشی اور سیاسی انحطاط کا شکار نہ ہو۔


















