نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے ترسیلات زر کے حوالے سے اہم اعلان کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں وزیر اطلاعات اور وزیر توانائی کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ شمشاد اختر کا کہنا تھا کہ نگران حکومت کو مسائل ورثہ میں ملے ہیں مگر ہم ان سے گھبرا نہیں رہے بلکہ ایک ایک کرکے ان چیلنجوں اورمشکلات پرقابو پانے کی کوشش کررہے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ اخراجات پرقابو پایا جائے اور محصولات میں اضافہ کیلئے اقدامات کئے جائیں۔
نگراں وزیر خزانہ نے کہاکہ معاشی اشاریوں میں بہتری آرہی ہے، سینسٹو پرائس انڈیکس مئی کے 38 فیصدکی شرح سے کم ہوکر26.2 فیصدکی سطح پرآگیا ہے، اس سے واضح ہو رہا ہے کہ ہم مشکلات سے نکل رہے ہیں اورقیمتوں میں استحکام آرہا ہے، آنیوالے دنوں میں اس میں مزید بہتری آئیگی۔
ڈاکٹر شمشاد اختر نے یہ بھی کہا کہ پیداواری شعبے میں بہتری آرہی ہے، ہمیں امید ہے کہ زراعت کے شعبہ میں چھوٹی اور بڑی فصلوں کی اچھی پیداوار آجائیگی اور ہمارے ذخائر بہتر ہوجائیں گے جبکہ اس سے مجموعی معیشت پراثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ خدمات کا شعبہ متحرک ہے اور یہ شعبہ کئی دیگرشعبوں کے ساتھ منسلک ہے، مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود کو برقرار رکھا ہے،اس سے بھی بہتری آئیگی، قرضہ لینے کی لاگت کم ہوگی اور صنعتوں کو ریلیف ملے گا۔
ڈاکٹر شمشاد اختر کا کہنا تھا کہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ مختلف منصوبوں کو فاسٹ ٹریک پر مکمل کرنے کیلئے ہماری بات چیت چل رہی ہے، ہمیں عالمی بینک سے مختلف منصوبوں کیلئے دو ارب ڈالرکی معاونت ملے گی۔
ان کا یہ بھی کہناتھا کہ ہماری کوشش ہے کہ ان شعبوں پرتوجہ دی جائے جس سے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ ہوں، ہم براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ کیلئے اقدامات کررہے ہیں جس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔
نگراں وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہیں، حکومت نے ایکسچینج کمپنیوں میں اصلاحات کی ہے جبکہ سمگلنگ کے خاتمہ کیلئے بھی ملک بھرمیں اقدامات جاری ہیں جس سے روپے کی قدرمیں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے بینکنگ ذرائع سے ترسیلات زر کی وصولی کیلئے 80 ارب روپے میں سے 20 ارب روپے آج جاری کئے ہیں جبکہ ایکسپورٹ اینڈامپورٹ بینک کوآپریشنلائز کیا جارہا ہے۔
ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ کسٹم ڈیوٹی میں کمی آئی ہے تاہم ایف بی آر نے جاری مالی سال کے پہلے دوماہ میں اپنے ہدف سے زیادہ محصولات اکٹھی کی ہیں،صنعتوں کیلئے درآمدات ضروری ہیں اس لئے اس پرزیادہ ٹیکس نہیں لگاسکتے۔
نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے مزید کہا کہ زرمبادلہ کی سمگلنگ اورذخیرہ اندوزی کے خلاف اقدامات کاسلسلہ جاری ہے کیونکہ کوئی بھی ملک کرنسی سے کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتا،آئی ایم ایف کے تحت ہم نے سرکاری اخراجات کو شفاف رکھناہے، ہمارا بنیادی مقصدخسارے میں کمی لانا ہے۔


















