اسلام آباد ہائی کورٹ نے رازق سنجرانی کے خلاف کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔
تفصیلات کے مطابق صادق سنجرانی کے بھائی رازق سنجرانی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت کے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کروا دیا جس میں انھوں نے عدالت کو بتایا کہ توہین عدالت کا سوچ نہیں سکتا، دانستہ طور پر توہین عدالت نہیں کی۔
رازق سنجرانی نے جواب میں بتایا کہ سینڈک میٹلز کا ایم ڈی ہوتے ہوئے عہدہ گریڈ 22 کے برابر ہے، گریڈ 22 کے برابر کا افسر ہوتے ہوئے گھر الاٹمنٹ کی درخواست دی تو الاٹ کر دیا گیا، 2013 میں اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ میں کیٹگری آئی کا مکان الاٹ ہوا، 2019 میں الاٹمنٹ منتقلی کی درخواست پر ایف سکس میں گھر الاٹ کر دیا گیا۔
جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ ایک کمپنی کے ملازم کے سے وفاقی حکومت کے ملازم کے طور پر برتاؤ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ حکومت کی تو درجنوں کمپنیاں ہیں، کیا کسی اور کمپنی کے ملازم کو بھی ایسی رہائش ملی؟
عدالت نے کہا کہ کمپنی کے ملازم نے وہ گھر رکھا ہوا ہے جو وفاقی سیکرٹری کو الاٹ ہوتا ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے خلاف آرڈر پاس کریں؟ آپ الاٹمنٹ کے معاملہ پر نظرثانی کریں نہیں تو ہم آرڈر پاس کریں گے۔
جسٹس بابر ستار نے رازق سنجرانی کو گریڈ 22 کے افسر کے برابر رہائش الاٹمنٹ کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے رازق سنجرانی کے وکیل کو پیر تک مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















