Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ نے نیب عدالتوں کو بحال شدہ مقدمات کے حتمی فیصلے سنانے سے روک دیا

سپریم کورٹ نے نیب عدالتوں کو بحال شدہ مقدمات کے حتمی فیصلے سنانے سے روکتے ہوئے کہا کہ احتساب عدالتیں مقدمات کی سماعت جاری رکھیں لیکن حتمی فیصلے نہ کریں۔

سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کالعدم قراردینے کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعامسترد کردی، فاروق نائیک نے سپریم کورٹ سے ترامیم کالعدم قراردینے کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کی تھی۔

عدالتِ عظمٰی میں نیب ترامیم فیصلے کے خلاف اپیلوں پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔

 لارجربینچ میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل شامل، جسٹس اطہرمن اللّٰہ اور جسٹس حسن اظہررضوی بینچ کا حصہ تھے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے التوا کی درخواست دائر کی ہے، عدالت اگر حکم دے تو میں دلائل کیلئے تیار ہوں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس کیس میں اور بھی درخواستیں آئی ہوئی ہیں، زوہیر احمد صدیقی اور خواجہ حارث نے درخواست دائر کی ہوئی ہے۔

اٹارنی جنرل پاکستان نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے وکیل مخدوم علی خان کو وکیل کیا گیا ہے، اصل کیس اور اپیل دونوں میں مخدوم علی خان ہی وکیل تھے، مخدوم علی خان کی جانب سے کیس ملتوی کرنے کی درخواست دی گئی ہے، مخدوم علی خان 3 نومبر تک چھٹی پربیرون ملک ہیں۔ میں عدالت کی معاونت کیلئے دستیاب ہوں۔

فاروق ایچ نائیک نے عدالت سے کہا کہ میرا مؤکل سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلہ سے متاثر ہوا، کیس میں فریق بننے کیلئے درخواست دائر کی ہے، ترامیم کے نتیجے میں میرے مؤکل کا کیس دوبارہ کھل گیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اپیل میں وفاقی حکومت نے ایک نکتہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کا اٹھایا ہے۔

مخدوم علی خان کے معاون وکیل سعد ہاشمی عدالت میں پیش ہوئے اورعدالت سے کہا کہ نیب ترامیم کیس پر پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون لاگو ہوتا تھا، نیب ترامیم کیس میں بنچ ججز کی کمیٹی نے تشکیل نہیں دیا تھا جس پر چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے استفسارکیا کہ کیا آپ اس نکتے کی پیروی کرنا چاہتے ہیں؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر آپ کی یہ دلیل مان لی گئی تو نیب ترامیم کیخلاف درخواستیں زیرالتواء تصور ہونگی، زیرالتواء درخواست پر ازسرنو پانچ رکنی لارجر بنچ فیصلہ کرے گا۔ وکیل سعد ہاشمی نے جواب دیا پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون والا نکتہ پہلے بھی اٹھایا تھا۔

اٹارنی جنرل کی اپیلوں پرپریکٹس اینڈ پروسیجرقانون لاگو ہونے کی حمایت

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے اپیلوں پر پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون لاگو ہونے کی حمایت کر دی۔ فاروق نائیک بھی سعد ہاشمی کے ہم آواز، مرکزی کیس کی ازسرنو سماعت کی استدعا کی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ عدالت کو اس نکتے پر تکنیکی مسئلے کا بھی سامنا ہے، ابھی تک پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کا تفصیلی فیصلہ نہیں آیا، معلوم نہیں نمٹائے گئے مقدمات کے حوالے سےتفصیلی فیصلے میں کیا لکھا ہوگا، کیا مناسب نہیں ہوگا پہلے تفصیلی فیصلے کا انتظار کرلیا جائے؟

عدالت نے استفسارکیا کہ کیا تمام نیب ترامیم کالعدم ہوئی ہیں؟ معاون وکیل سعد ہاشمی نے جواب دیا کہ پہلی اور دوسری ترامیم کی کچھ شقیں کالعدم قراردی گئی ہیں۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ 25 مئی کو نیب قانون میں تیسری ترمیم بھی ہوئی، تیسری نیب ترمیم کا اثرعدالتی فیصلے سے زائل ہوگیا ہے، عدالتی فیصلے سے تیسری نیب ترمیم غیر فعال ہوچکی۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ قانون غیرفعال کیسے ہوسکتا ہے؟ تیسری ترمیم کا جائزہ لیے بغیر پہلی دو کالعدم کیسے ہوسکتی ہیں؟  جبکہ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالت نے ترامیم کالعدم قراردینی تھیں تو تینوں کرتی، تیسری ترمیم مئی میں آئی اس کے بعد بھی چھ سماعتیں ہوئیں، تینوں نیب ترامیم کا آپس میں براہ راست تعلق ہے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ نیب ترامیم کیخلاف درخواستیں بحال کرکے لارجر بنچ کو بھیجنے کیلئے آئیڈیل کیس ہے۔

سماعت کا حکم نامہ

سپریم کورٹ نے سماعت کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کے معاون وکیل نیب ترامیم فیصلے کیخلاف اپیلوں میں پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کا حوالہ دیا گیا، سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو آئین کے مطابق قراردیا، معاون وکیل کے مطابق قانون کے تحت نیب ترامیم کیخلاف کیس پانچ رکنی بنچ سن سکتا تھا، وکیل کے مطابق پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کا اطلاق زیرالتواء نیب کیس پربھی ہوتا تھا۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ وفاق کے معاون وکیل کے نیب ترامیم سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کالعدم قراردیں۔ ، سپریم کورٹ نے نیب کے ملزم کی مقدمہ میں دائر نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دیں۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کا تفصیلی فیصلہ تاحال نہیں آیا، اپیل میں اٹھائے گئے اعتراض کا ممکنہ انحصار پریکٹس اینڈ پروسیجر تفصیلی فیصلے پر ہوگا۔

سپریم کورٹ نے حکم نامے میں لکھا کہ مناسب ہوگا کہ تفصیلی فیصلے کے بعد نیب ترامیم اپیلوں پر سماعت ہو۔

عدالتِ عظمٰی نے نیب ترامیم کالعدم قراردینے کیخلاف اپیلوں پرفریقین کو نوٹس جاری کردیے۔ عدالت نے معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کر دیا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائزعیسٰی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے نیب عدالتوں کو بحال شدہ مقدمات کے حتمی فیصلے سنانے سے روکتے ہوئے سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ نے عدالتی حکم اور اپیلوں کی نقول چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے صوبوں اور اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرلزکو بھی نوٹس جاری کر دیے۔

حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا کہ آگاہ کیا گیا کہ تیسری نیب ترمیم مئی میں آئی جبکہ فیصلے میں اس کا جائزہ نہیں لیا گیا، آگاہ کیا گیا کہ تیسری نیب ترمیم کے بعد مقدمہ کی چھ سماعتیں ہوئی تھیں، بتایا گیا کہ تیسری ترمیم کے بعد ٹرائل کورٹس بھی کنفیوژن کا شکار ہیں کہ کیسے آگے چلا جائے۔

واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 15 ستمبر کو دو ایک کے تناسب سے فیصلہ سنایا تھا۔

عدالت عظمٰی نے دو ایک کی اکثریت سے فیصلہ جاری کیا تھا جس پر جسٹس منصورعلی شاہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔

اگرآپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پرہمیں فالوکریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اورحالات سے باخبررہیں۔

متعلقہ خبریں