سپریم کورٹ نے درخواست گزارکو مقدمات کوطوالت دینے پر10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران مقدمات کو طوالت دینے پر چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے درخواست گزار کو 10 لاکھ روپے جرمانہ کردیا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ مقدمات کو جان بوجھ کر دیر تک چلانا وطیرہ بن گیا ہے، اس طریقے سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ سالہا سال تک لوگوں کوان کے حق سے محروم کیا جاتا ہے، سارے عدالتی نظام کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
انھوں نے ریمارکس دیے کہ آہستہ آہستہ تمام معاملات کو بہتر کرینگے، 14 سال تک اس کیس کو طوالت دی گئی، درخواست گزار طویل عرصے تک زمین پر قابض رہا، من گھڑت درخواستوں کے ذریعے عدالتوں کا وقت ضائع کیا جاتاہے۔
سپریم کورٹ نے کیس کو خارج کرتے ہوئے 10لاکھ روپے جرمانہ کردیا۔ چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار جاوید حمید نے زمین ملکیت کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















