اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بینک فراڈ سے متاثرہ شہری کو 344,600 روپے واپس کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
تفصیلات کے مطابق صدر عارف علوی کی جانب سے بینکنگ محتسب کا حکم برقرار رکھا گیا اور بینکنگ محتسب کے فیصلے کے خلاف الائیڈ بینک کی دائر کردہ درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے اپیل کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ الائیڈ بینک کے صارف کے اکاؤنٹ سے 344,602 روپے دھوکہ دہی سے نکالے گئے، بینک نے صارف کی رضامندی کے بغیر فنڈ منتقلی سہولت کھول کر بدانتظامی کا ارتکاب کیا، بلااجازت آن لائن فنڈ ٹرانسفر سہولت کھولنے کی وجہ سے صارف کو نقصان اٹھانا پڑا۔
صدر مملکت نے کہا کہ بینک قانونی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہا، بلااجازت انٹرنیٹ بینکنگ چینل کھول بے ضابطگی اور عدم تعمیل کا ارتکاب کیا، شکایت کنندہ کو بینک ہیلپ لائن سے ملتے جلتے نمبر سے فون کال موصول ہوئی، کال کے بعد اکاؤنٹ سے 344,602 روپے کی رقم منتقل کی گئی، صارف نے ماضی میں آن لائن چینلز کے ذریعے کوئی لین دین نہیں کیا۔
انکا کہنا تھا کہ بینک ادائیگی کے نظام اور الیکٹرانک فنڈز ٹرانسفر ایکٹ 2007 کے سیکشن 41 کے مطابق متنازعہ لین دین کی قانونی حیثیت ثابت کرنے میں ناکام رہا، رقم کی قسطوں میں منتقلی ایک ہی تاریخ پر، بہت ہی مختصر وقت میں ایک ہی طرز پر کی گئی، رقم منتقلی پر بینک سسٹم الرٹ ہونا چاہیے تھا، کم از کم صارف کو کال جانی چاہیے تھی۔
صدر عارف علوی نے کہا کہ اس تشویشناک امر پر بینکوں اور اسٹیٹ بینک کو توجہ دینی چاہیے، شہری ڈیجیٹل بینکنگ، جدید ٹیکنالوجی پر مبنی بینکنگ مصنوعات سے واقف نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بینک آن لائن چینلز کے حوالے سے قوانین اور اسٹیٹ بینک کی ہدایات کی تعمیل کرنے میں ناکام رہا، اپیل مسترد کی جاتی ہے، 30 دنوں کے اندر بینکنگ محتسب کو تعمیل کی رپورٹ جمع کرائیں۔
یاد رہے کہ امیر علی وسان نے فراڈ کے فوری بعد شکایت درج کروائی، شکایت حل نہ ہوئی، صارف نے کھوئی ہوئی رقم کی واپسی کے لیے بینکنگ محتسب سے رجوع کیا۔
محتسب نے بینک کو رقم واپس کرنے کی ہدایت کی، مگر بینک نے فیصلے کے خلاف صدر کو اپیل دائر کردی، جس کے بعد صدر مملکت نے کیس کی ذاتی طور پر سماعت کی اور بینک کی اپیل کو مسترد کر دیا۔


















