نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نےکہا ہے کہ ہم روشن خیال اور امن پسند لوگ ہیں۔
تفصیلات کے مطابق نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے 16ویں عالمی اردو کانفرنس کی افتتاحی تقریب سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو کانفرنس کی دھوم عالمی سطح پر مچی ہوئی ہے، ادب کے فروغ میں کردار ادا کرنے والے امر ہوگئے، جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی احمد شاہ کی قیادت میں علم وادب اور فن کی آبیاری کیلئے بھر پور کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم پرامن لوگ ہیں،ہمارا ادب ہماری بہترین اقدار کا ثبوت ہے، آرٹس کونسل احمد شاہ کی قیادت میں ادب کی خدمت کررہا ہے، سب سے پہلے میں احمد شاہ اور ان کے ساتھیوں کو اس اہم اور پوری دنیا میں مقبول ادبی میلے کے کامیاب انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
مقبول باقر نے یہ بھی کہا کہ علوم و فنون انسان کا خاصہ ہیں۔قدرت نے انسان کو سوچنے والا دماغ ، احساسات و جذبات والا دل، تخلیق کی صلاحیت، ابلاغ والی زبان ، اخلاقی حس اور جمالیاتی ذوق عطا کیے ہیں، ان نعمتوں کی بدولت انسان دوسرے جانداروں سے الگ اور برتر ہو گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ ادب کا مطالعہ ہمیشہ سے افراد اور اقوام کو باشعور ، متوازن، شائستہ، انسان دوست، ہمدرد اور نفیس بنانے کا ذریعہ رہا ہے۔اردو کانفرنس ملک کی ضرورت ہے جبکہ ہم روشن خیال اور امن پسند لوگ ہیں، ہم پر لگنے والے الزامات کا جواب دینا ضروری ہے۔
جسٹس (ر) مقبول باقر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ادب میں سماج کو بدل ڈالنے کی وہ ان دیکھی قوت موجود ہے جس کا مشاہدہ بر صغیر پاک و ہند کے لوگوں نے بیسویں صدی کے پہلے نصف میں ہی کر لیا تھا، ادب و ثقافت کے ذریعے افراد اور اقوام کی اصلاح اور فلاح کے لیے بڑا مفید کردار ادا کیا جا تا رہا ہے جن اقوام نے اس پر استقامت دکھائی آج وہ تاریخ میں اپنے منفرد مقام کی بدولت تہذیب یافتہ اقوام کہلاتی ہیں۔
نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر کا مزید کہنا تھا کہ کراچی آرٹس کونسل کے یوتھ فیسٹیولز، تھیٹر فیسٹیولز ، میوزک فیسٹیولز اور دیگر ادبی و ثقافتی تقریبات و میلے اپنی مثال آپ ہیں، اس سے ہمارے نو جوانوں کو خاص طور پر فائدہ ہوا۔ نوجوان مثبت مشاغل و سرگرمیوں میں حصہ لے کر غلط اور منفی سرگرمیوں سے دور رہے۔


















