جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان پر معیشت کے حوالے سے دباؤ ہے۔
تفصیلات کے مطابق جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے کونے کونے میں جمیعت کا پرچم لہرائے گا، دنیا میں جہاں کوئی قوم آزادی کی جنگ لڑتی ہے تو جے یو آئی ہر اول دستہ ہوتا ہے، پاکستان میں اسلامی نظام یہود و نصریٰ کو منظور نہیں، پاکستان پر معیشت کے حوالے سے دباؤ ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اب تک تقریبا 16 ہزار مائیں بہنیں فلسطین میں شہید ہوچکی ہیں، دنیا کی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس وقت کہاں ہیں؟
انہوں نے کہا کہ 20 سال تک جنہوں نے افغانستان پر ظلم کیے وہ کہتے ہیں ہم انسانی حقوق کی تنظیم ہیں، فاٹا انضمام کر کے جنت کی طرف لے جانے کے وعدے کیے گئے، فاٹا کے عوام کو دھوکہ دیا گیا،6 سالوں میں فاٹا کو ایک ارب روپے بھی نہیں دیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی قوتیں ہماری معیشت ہمارے ایٹم بم پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں جو ہمیں منظور نہیں ہے، پوری قوم سے کہنا چاہتا ہوں پرانی لکیریں مٹا کر نئے مستقبل کی راہیں تلاش کریں۔
جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اسرائیل کو تسلیم کرنے کا دباؤ ہم پر گزرا، پچھلی حکومت کشمیر کو بیچنے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مقصد سے آئی تھی، ہم نے اس فتنے کو ختم کر دیا جو اسرائیل کو تسلیم کرنا تھا، جن کا ایجنڈا پاکستان کو توڑنا تھا کیا ان کو دوبارہ ووٹ دیں گے؟


















