شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سیاست میں مخالفت ہوتی ہے، دشمنیاں نہیں ہوتیں، ہمارے لیڈرجیلوں میں رہے مشکلات کاٹیں لیکن کوئی رازباہر نہیں آنے دیا۔
پی پی رہنما شرجیل میمن نے کراچی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو معززعدالت نے سزا سنائی ہے۔ ہم کسی کی سزا پر خوش نہیں ہوتے۔ ملک کی عدالت نے انہیں سزا سنائی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ ہمارے لئے قابل احترام ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ یہ وہی قانون ہے جس سے بانی پی ٹی آئی مخالفین کو دباتے رہے، خواتین کو نہیں آنا چاہئے تھا۔ عید کی رات کو فریال تالپورکو اسپتال سے جیل منتقل کیا گیا تھا ان کی تذلیل کی گئی تھی۔ ہماری لیڈر شپ نے گیارہ سال جیل کاٹی۔
رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ توشہ خانے سے تحفے آدھی قیمت میں خرید سکتے ہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ تحفہ لے کر بازار میں بیچ دے، توشہ خانہ کے قوانین ہیں تحفے لینے کے۔ جس تحفہ پرسزاہوئی وہ گراس کمپنی کی گھڑی پرہوئی۔ اس کمپنی نےایک ہی گھڑی بنائی خانہ کعبہ کی شبیہ اس پربنی ہوئی تھی۔
شرجیل میمن نے کہا کہ گھڑی خود استعمال کرنے کے لیے خریدی جاتی ہے نہ کہ مارکیٹ میں بیچنے کے لئے، بانی پی ٹی آئی نے خانہ کعبہ والی گھڑی بیچی۔ یہ ساری کارروائی جعلی طریقے سے کی گئی۔ گھڑی خریدنے کے لیے پیسے کہاں سے آئے منی ٹریل نہیں دی۔ گھڑی خود استعمال کر سکتے ہیں اسے بیچ نہیں سکتے۔
انھوں نے کہا کہ اس گھڑی کی قیمت ڈھائی تین ارب روپے ہے۔ اس کی پچاس فیصد قیمت ڈیڑھ ارب روپے بنتی ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے چند لاکھ دے کر گھڑی خریدی۔ ایک ارب ننانوے کروڑ روپے کا ڈاکا ڈالا گیا۔ بانی پی ٹی آئی وکیل بھی تبدیل کرتے رہے۔ وکیل بھی عدالت نہیں آتے تھے اورنہ ہی بشری بی بی حاضر نہیں ہوتی تھیں۔
بانی پی ٹی آئی نے گھڑی بیچ کرسڑک بنائی یہ بات سمجھ نہیں آتی۔ ججوں نے بھی انتظارکیا کھوسہ صاحب وکیل تھے۔ بغیر پیسوں کے لطیف کھوسہ کوئی کیس نہیں لیتے۔ انھیں مشورہ دیا گیا کہ وکیل پیش نہ کریں کیس تاخیر کا شکار ہو جائے گا۔ بانی پی ٹی آئی کے دور میں سیاسی مخالفین کو چن چن کر انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔
رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد میں مخالفت کرنے والے اپنے لوگوں کے گھروں پر حملے کرائے۔ جو پودا آپ نے لگایا تھا اب وہ کاٹ رہے ہیں۔ جو ٹولزآپ نے مخالفوں کے لئے استعمال کیے اب خود اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ آپ آپنے اعمالوں کی وجہ سے جیل مں ہو اس پر ہم خوش نہیں۔ فرح گوگی نے پنجاب میں کیا کیا اوراسے آپ نے فرارکرایا، ایمنسٹی اسکیم سے آپ نے اور آپ کے اہلخانہ نے فائدہ اٹھایا۔
شرجیل میمن نے مزید کہا کہ سیاست میں مخالفت ہوتی ہے دشمنیاں نہیں ہوتیں، ہمارے لیڈر جیلوں میں رہے مشکلات کاٹیں لیکن کوئی رازباہر نہیں آنے دیا۔ جس ملک پر آپ نے الزام لگایا بعد میں اس ملک میں لابنگ کرتے رہے۔ بھارت سے فنڈنگ لی۔ آپ نے ملک اور اداروان کو نقصان پہنچایا۔ اس ملک کو لاڈلوں نے ہمیشہ نقصان پہنچایا ہے۔


















