جنوبی کوریا کی معروف کمپنی نے بچے کی پیدائش پر ہر ملازم کو 3 کروڑ روپے دینے کا اعلان کردیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا میں کم ترین شرح پیدائش کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے بویونگ گروپ نامی تعمیراتی کمپنی نے اعلان کیا کہ وہ اپنے ملازمین کو ہر بچے کی پیدائش پر 75 ہزار ڈالرز (لگ بھگ 3 کروڑ پاکستانی روپے) دے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان ملازمین میں بھی 52 لاکھ 50 ہزار ڈالرز تقسیم کیے جائیں گے جن کے ہاں 2021 سے اب تک بچوں کی پیدائش ہو چکی ہے جبکہ اس پالیسی کا اطلاق مردوں اور خواتین دونوں پر ہوگا۔
یاد رہے کہ دنیا میں کم ترین شرح پیدائش والا ملک جنوبی کوریا کو قرار دیا جاتا ہے، جنوبی کوریا میں فی خاتون شرح پیدائش ایک بچے سے کم تھی مگر 2022 میں یہ مزید کم ہوکر 08.1 فیصد پر پہنچ گئی تھی۔
کسی ملک کو آبادی ایک ہی سطح پر رکھنے کے لیے فی جوڑا کم از کم 2.1 فیصد شرح پیدائش کی ضرورت ہوتی ہے۔
بویونگ گروپ کے چیئرمین لی جونگ کیون کے مطابق ہم کمپنی کے ملازمین پر بچوں کی پرورش کے مالی بوجھ میں کمی لانا چاہتے ہیں، جن ملازمین کے 3 بچے ہوں گے انہیں 2 لاکھ 25 ہزار ڈالرز نقد یا گھر کے کرائے میں سے ایک آپشن منتخب کرنے کو کہا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مجھے توقع ہے کہ ہمیں ایک ایسی کمپنی کے طور پر جانا جائے گا جو شرح پیدائش میں اضافے اور ملکی مستقبل کے حوالے سے لاحق پریشانیوں میں کمی لانے کی خواہشمند ہے۔




















