نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے صدر پاکستان کو دوبارہ ایڈوائس بھیج دی۔
نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے لیے صدر پاکستان کو سمری ارسال کی تھی تاہم صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سمری مسترد کرکے واپس بھیج دی۔
ذرائع ایوان صدر کے مطابق صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی سمری پر اعتراض لگاتے ہوئے کہا کہ پہلے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو مکمل کیا جائے اور اس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کریں۔
صدر مملکت نے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی سمری وزیراعظم ہاؤس اور وزارت پارلیمانی امور کو واپس بھجوا دی۔
بعد ازاں نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے صدر عارف علوی کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے ایک اور سمری بھیج دی اور ساتھ ہی قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو اجلاس طلب کرنے کا اختیار دے دیا۔
نگران وزیراعظم کی جانب سے بھیجی گئی سمری میں آئین کے تحت اسمبلی کا اجلاس بلانے کی تجویز دی گئی ہے اور ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت انتخابات کے 21 دن کے اندر اجلاس طلب کرنا ضروری ہے لہذا صدر پاکستان آئین کے تحت قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کریں۔
دوسری جانب صدر مملکت کی جانب سے اجلاس نہ بلانے پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے متبادل انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔
نگران وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو آئینی ڈیڈ لائن گزرنے پر اجلاس بلانے کا اختیار دے دیا ہے جس پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے آئینی ڈیڈ لائن پوری ہونے پر اجلاس بلانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی اجلاس کا نوٹی فکیشن بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب جا ری کیے جانے کا امکان ہے۔


















