برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی پنجاب کے گاؤں جاتی امرا کے مکین نواز شریف کو وزیراعظم بنانے کے خواہش مند ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے جاتی امرا کے مکینوں نے نواز شریف کے دادا میاں محمد بخش کی تربت پر مزار بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 2013 میں شہباز شریف نے یہاں کا دورہ کیا تھا جس پر پنجاب حکومت نے گاؤں کی ترقیاتی کے کافی اقدامات کیے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے گاؤں میں رابطہ سڑکیں تعمیر کرائیں، اسٹیڈیم بنا اور الگ ٹینکی بننے سے پانی کی فراہمی ممکن ہوئی، 1938 میں نواز شریف کا خاندان جاتی امرا سے پاکستان ہجرت کرگیا تھا لیکن وہ کبھی اپنے گاؤں کو نہیں بھولے۔
علاقہ مکینوں نے بتایا کہ نواز شریف کا خاندان جاتے ہوئے اپنا آبائی گھر گوردوارے کو دے گیا تھا، آج بھی یہاں ان کی احسان مندی میں ہم ان کے لئے دعا کرتے ہیں، شہباز شریف بچپن میں یہاں آئے تھے، ہم ان سے کچھ دیر کھیلے بھی تھے۔
علاقہ مکینوں نے بی بی سی کو اپنے بچپن کے واقعات سناتے ہوئے بتایا کہ بچپن میں ہم نے دیکھا تھا کہ ساتوں بھائی گاڑیوں میں یہاں (جاتی امرا) آئے تھے، میاں صاحب نے کہاتھا بچو دور نہ جانا، ہمیں آج بھی وہ سب یاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے بزرگوں کے مزارات بھی یہاں موجود ہیں، ہمارے لئے فخر ہے کہ ہمارے گاؤں کے خاندان نے اتنی ترقی اور بلندی پائی، ہماری دعا ہے کہ نواز شریف وزیراعظم بنیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ دبئی میں جب فیکٹری کھولی تھی تو میاں صاحب نے گاؤں (جاتی امرا) کے لڑکوں سے پاسپورٹ بنانے کا کہا تھا، ہم نے دبئی جا کر نوکری کی تھی، 1978 میں دبئی گئے تھے اور 1997 میں واپس آئے تھے۔ ہماری دعا ہے کہ وہ دوبارہ وزیراعظم بنیں۔


















