وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا کل کا فیصلہ آئنی نہیں، سیاسی تھا۔ فیصلہ دہلیزتک پہنچانے کےساتھ ریلیف بھی دیا گیا۔
وزیردفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں نیوزکانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے پی ٹی آئی پر من وسلویٰ اتراہے، آئین کی بہت سی شقوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے، بہتر فیصلے وہ ہوتے ہیں جو عام فہم ہوں اورلب کشائی نہ کی جائے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ دو ملین سے زیادہ سائل ہیں جو عدلیہ کے سامنے ہیں جنہیں انصاف نہیں مل رہا۔ آئین کی سربلندی کے لیے کردار ادا کرتے رہیں گے، لوگ پھانسی لگ گئے اور انصاف نہیں ملا، عدلیہ کو 134 واں نمبر بین الاقوامی سطح پر ملاہے۔
وفاقی وزیردفاع نے کہا کہ پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کا اختیار حاصل ہے، عدالت میں سنی اتحادکونسل آئی تھی، پی ٹی آئی کا نام ونشان نہیں تھا۔ سب جانتے ہیں کہ اراکین اپنے پارٹی نشان پرالیکشن لڑتے ہیں، کل ہم کس ادارے سے کہیں گے کہ آپ نے غیرآئینی کام کیا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ الیکشن کمیشن بھی آئینی ادارہ ہے، پارلیمنٹ بھی آئینی ادارہ ہے، ہمارے اس وقت بھی 209 ممبرزہیں، پی ٹی آئی کو انٹراپارٹی الیکشن نہ کرانے پرنشان کھونا پڑا، یہ فیصلہ دہلیزتک پہنچانے کےساتھ ریلیف بھی دیا گیا، آئین کودوبارہ لکھنے، بدلنے، ترمیم کاحق صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
وزیردفاع نے کہا کہ اب وہ پارٹی تبدیل کریں گے توآپ کوانکے نتائج کا بھی پتہ ہوناچاہیے، جب 2،2 حلف اٹھائیں گے تودونمبری ہی کریں گے، آئین کو ری رائٹ کیا گیا ہے، آئین بنانا پارلیمنٹ کا کام ہے اورآئندہ بھی ایسا ہی ہوگا، ہم نے پھربھی حدود میں رہ کراپنا کردارادا کیا ہے، ہم پرغیرآئینی حملے بھی ہوئے سارا نزلہ سیاستدانوں پرگرتارہا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ عدلیہ کا کام آئین کی تشریح کرناہے، تمام اداروں کی ذمے داریاں آئین میں درج ہیں، کل کافیصلہ آئینی نہیں سیاسی تھا، سپریم کورٹ کا فیصلہ آئینی نہیں تھا، جس نے دروازہ نہیں کھٹکھٹایاآپ انکو انصاف دے رہے ہیں، فیصلےکی ہوم ڈلیوری کی گئی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ سب جانتے ہیں کہ اراکین اپنے پارٹی نشان پر الیکشن لڑتے ہیں، موجودہ حالات میں پنڈورا باکس کھول گیا ہے، قومی مستبقل کے لیے یہ اچھی بات نہیں۔ پیرکو پارلیمنٹ میں یہ فیصلہ ہوگا کہ حکومت نظرثانی کی طرف جائے گی یا نہیں، ملک میں دہشتگردی چل رہی ہے، آپریشن پر پی ٹی آئی انکاری ہے۔


















