وفاقی حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے ٹھوس اقدامات کا فیصلہ کرلیا۔ صارفین کو بجلی پرریلیف کیلئے ورکنگ تیار، آئی ایم ایف سے گرین سگنل ملنے کا انتظارہے۔
پاور ڈویژن ذرائع کا کہنا ہے کہ ناکارہ پاور پلانٹس کو بند کرنے کیلئے یکمشت ادائیگیوں کا پلان، آئی پی پیز سے معاہدوں پر نظر ثانی بھی منصوبہ کا حصہ ہے۔ کچھ پاورپلانٹس کو مقامی قرضوں کے زریعے ادائیگیاں ورکنگ کا حصہ ہیں۔
ذرائع کے مطابق سرکاری پاور پلانٹس کے منافع میں کمی بھی وفاقی حکومت کے پلان کا حصہ ہے۔ بجلی قیمتوں میں کمی کیلئے وفاق اور صوبے مل کر فنڈنگ کا انتظام کریں گے، پلان کے تحت وفاق اور صوبوں کے درمیان 50/50 فنڈز فارمولا لاگو ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں 2800 ارب روپے کی فنڈنگ کا بندوبست کریں گی، 2800 ارب میں سے 1400 ارب وفاقی حکومت ادا کرے گی، صوبائی حکومتیں 1400 ارب روپے این ایف سی کے تحت اپنے حصے کی رقم سے کٹوائیں گی۔
ذرائع نے بتایا کہ پلان کے تحت پنجاب کو699 ارب، سندھ 351 ارب، خیبرپختونخوا کو231 ارب دینا پڑینگے، پاورسیکٹر کے گردشی قرض کی یکمشت ادائیگیاں بھی پلان میں شامل ہیں۔ منصوبے سے ملک میں بجلی کی قیمتوں میں کمی اضافی بوجھ ختم ہوگا۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت اقدامات کے تحت آئی پی پیز کے ساتھ بھی بات چیت آگے بڑھا رہی ہے۔ آئی ایم ایف سے پلان کے گرین سگنل ملتے ہی عملی اقدامات کا آغاز کیا جائے گا۔
















