اسلام آباد: جمعیت عملمائے اسلام (جے یو آئی) آئینی ترمیمی بل کے حوالے سے اپنے موقف پر قائم ہے۔
سینیٹ میں جے یو آئی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر مولانا عطاء الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی نے آئینی ترمیمی بل کو یکسر مسترد کردیا ہے، پیپلزپارٹی کے ساتھ آئینی ترمیمی پیکج کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
سینیٹر مولانا عطاء الرحمان نے کہا کہ بلاول بھٹو سے کوئی ملاقات طے نہیں ہوئی ہے، جب جے یو آئی کے بغیر آئینی ترمیمی بل کی منظوری کا حتمی فیصلہ کیا گیا تو اپنا ردعمل دیں گے، جے یو آئی کو آئینی ترمیمی بل کے حوالے سے تحفظات ہیں۔
جے یو آئی کے پارلیمانی لیڈر کہتے ہیں کہ آئینی عدالت کے حوالے سے جے یو آئی کے قانونی ماہرین نے ہوم ورک کیا ہے، آئینی عدالت کے حوالے سے جے یو آئی اپنا موقف رکھتی ہے جب کہ پارٹی اجلاس میں آئینی عدالت کا معاملہ ابھی زیربحث نہیں آیا ہے۔
مولانا عطاء الرحمان نے مخصوص نشستوں پر پیدا شدہ تنازعہ کا ذمہ دار سپریم کورٹ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلہ کے تحت مخصوص نشستیں تقسیم کی گئیں تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے فیصلہ تبدیل کرکے تنازعہ کھڑا کیا، الیکشن کمیشن جو بھی فیصلہ کرے گا جے یو آئی اس کے تحت عمل کرے گی۔


















