امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ ملک میں 25 ہزار لوگ باقی لوگوں کے حقوق دبائے ہوئے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان جغفرافیائی نام نہیں ایک عقیدے کا نام ہے، قیام پاکستان کے لیے بے انتہا قربانیاں دیں، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہاں انصاف ہوتا تعلیم ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ ریاست و حکومت بدترجیج اپنی ذمہ داری سے ایک طرف ہوتی گئی ہے، گورنمنٹ سیکٹر کے ادارے 70 فیصد رہ گئے پرائیویٹ سیکٹر آگے بڑھ رہا ہے، گورنمنٹ اسکول پرائیویٹ افراد کو دے رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت جو کہتی ہے اور جو کرتی ہے اس میں تفریق ہے، ریاست کا فرض ہے سب کو معیاری تعلیم فری فراہم کریں، آج معیاری تعلیم کیلئے پرائیویٹ سیکٹر جانا مجبوری ہے، ریاست کی ذمہ داری تھی سب کو یکساں تعلیم کے مواقعے فراہم کرتی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 16 سے 17 سو ارب روپے صوبوں کے پاس تعلیمی بجٹ ہے، تعلیمی بجٹ دفاعی بجٹ کے برابر بنتا ہے، آئی پی پی ایز کا بجٹ الگ سے ہے جو بجلی بنتی ہی نہیں اسکی بھی ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں بجلی اور واش روم تک نہیں ہوتے، امیروں اور مڈل کلاس کیلئے بھی سرکاری ادارے ہونے چاہئیں، بد قسمتی سے ریاست اپنی اس ذمہ داری کو پورا نہیں کر رہی، انصاف، تعلیم، امن، وروزگار اور صحت کی سہولتیں دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، اگر ریاست یہ سہولیتں نہ دے مگر ڈنڈے سے رٹ قائم کرنے آجائیں تو ایسی ریاست کو کیا کہیں؟
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں 25 ہزار لوگ باقی لوگوں کے حقوق دبائے ہوئے ہیں، 25 کروڑ لوگوں میں سے کتنے لوگ اعلیٰ و معیاری تعلیم کی استدعا رکھتے ہیں، سوسائٹی میں شعور پیدا ہونا چاہیے کہ تعلیم عوام کا حق ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکمران طبقہ پورے نظام پر قابض اور لوگ آہستہ آہستہ حق سے بھی دستبردار ہوگئے ہیں، غلامانہ نظام میں لوگ حق سے دستبردار ہی ہوجاتے بلکہ اسی حق کو خیرات سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔


















