Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

اسلام آباد ہائیکورٹ: توہین مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین مذہب کے مقدمات کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے کا حکم دے دیا ہے۔

عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ حکومت ایسا کمیشن تشکیل دے جو توہینِ مذہب سے متعلق مقدمات کا تفصیلی جائزہ لے اور چار ماہ کے اندر اپنی کارروائی مکمل کرے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہینِ مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے وفاقی حکومت کو 30 دن کے اندر ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

مزید پڑھیں: چیف جسٹس کا توہین مذہب سے متعلق فیصلے کی غلط رپورٹنگ کا نوٹس

فیصلہ جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان پر مشتمل ایک رکنی بینچ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ ایک ایسا کمیشن تشکیل دے جو توہینِ مذہب سے متعلق مقدمات کا تفصیلی جائزہ لے اور چار ماہ کے اندر اپنی کارروائی مکمل کرے۔ اگر کمیشن کو مزید وقت درکار ہو تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔

فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ کمیشن کا قیام ملک میں توہینِ مذہب کے غلط استعمال کو روکنے اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیں: جان بوجھ کر توہین مذہب کا ارتکاب غیر قانونی قرار دینے کا مطالبہ

یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں توہینِ مذہب کے قانون کا غلط استعمال سنگین نوعیت کے انسانی حقوق کے خدشات کو جنم دیتا رہا ہے، جس پر عدالتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تواتر کے ساتھ آواز بلند کی جاتی رہی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس حکم کو ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد توہینِ مذہب کے مقدمات میں شفافیت اور عدل کو یقینی بنانا ہے۔

متعلقہ خبریں