بھارت سے تعلق رکھنے والے ایک 13 سالہ بچے کی موت اس وقت واقع ہوئی جب اس کے خاندان نے سانپ کے کاٹنے کے بعد اسے اسپتال لے جانے کے بجائے 12 گھنٹے تک دریائے گنگا میں ڈبوئے رکھا۔
اس بچے کی موت نے پورے بھارت میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور توہم پرستی اور مناسب طبی علاج سے انکار کے خطرناک نتائج پر بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا۔
یہ واقعہ بھارتی ریاست اتر پردیش کے گاؤں پیتم پور میں پیش آیا جہاں 13 سالہ امیت جوکہ چوتھی جماعت کا طالب علم تھا کو گزشتہ جمعرات کو سانپ نے کاٹ لیا تھا امیت نے اس واقعے کی اطلاع فوراً اپنے گھر والوں کو دی تاہم وہ اسے اسپتال لے جانے کے بجائے ایک عامل کے پاس لے گئے۔
اس عامل نے خاندان کو ہدایت دی کہ امیت کو بانس کی لاٹھیوں کے ساتھ باندھ کر اس کا جسم دریائے گنگا میں ڈبوئے رکھیں تاکہ مقدس پانی اسے شفا دے سکے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 12 گھنٹے بعد جب امیت بے ہوش ہو گیا تب خاندان اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے تاہم اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی اور اسے بچایا نہ جا سکا۔
امیت کی موت کے بعد بھی اہلِ خانہ نے مبینہ طور پر اس کی لاش کو گنگا میں بہانے کی کوشش کی اس امید میں کہ شاید کوئی معجزہ ہو جائے۔
مقامی ہیلتھ سینٹر کے ڈاکٹر ششانک چودھری نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ اور ان کی ٹیم مسلسل آگاہی مہم چلاتے رہتے ہیں اور لوگوں کو تاکید کرتے ہیں کہ سانپ کے کاٹنے کی صورت میں فوراً اسپتال آئیں، کیونکہ ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے۔
امیت کی اس موت پر جسے بچایا جاسکتا تھا سوشل میڈیا پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور بہت سے لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ والدین کو اپنی غفلت کا جوابدہ ٹھہرایا جائے تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ پولیس اس افسوسناک واقعے میں خاندان کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی یا نہیں۔




















